حدیث سے استدلال
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے مخاطبین اولیٰ سے جنگ کر کے انھیں عقیدہ بدلنے پر مجبور کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں بہت سے بے دینوں کو راہِ راست حاصل ہوئی ۔ یہاں میں بدرالدین عینی اور ابن حجر کے الفاظ نقل کروں گا۔ جس سے اس تشریح کی مزید وضاحت ہوتی ہے : قَوْلُهُ "حَتَّى يُقِيمَ بِهِ“ ، أَيْ: حَتَّى يَنْفِيَ بِهِ الشِّرْكَ وَيُثْبِتَ التَّوْحِيدَ. قَوْلُهُ: "الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ، هِيَ مِلَّةُ الْعَرَبِ، وَوَصَفَهَا بِالْعَوْجِ لِمَا دَخَلَ فِيهَا مِنْ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ وَتَغْيِيرِهِمْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ، عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، عَنْ اسْتِقَامَتِهَا، وَإِمَالَتِهِمْ بَعْدَ قِوَامِهَا. وَالْمُرَادُ مِنْ إِقَامَتِهَا: إِخْرَاجُهَا مِنْ الْكُفْرِ إِلَى الْإِيمَانِ (عمدة القاري للعيني، جلد 11، صفحه 243)۔ یعنی ، یقیم بہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے رسول کے ذریعہ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات کر دے ، مِلّت عوجا سے مراد ملتِ عرب ہے۔ عربوں کو کج اس لیے کہا کہ انہوں نے اپنے جدِ اعلیٰ حضرت ابراہیم کے دین کو بدل دیا تھا، اور ان کے اندر بت پرستی گھس گئی تھی۔ ملت عرب کی اقامت ان کو کفر سے نکال کر ایمان کی طرف لانا ہے۔ قوله: حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ، أَيْ: مِلَّةَ الْعَرَبِ، وَوَصَفَهَا بِالْعَوْجِ لِمَا دَخَلَ فِيهَا مِنْ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ، وَالْمُرَادُ بِإِقَامَتِهَا أَنْ يُخْرِجَ أَهْلَهَا مِنْ الْكُفْرِ إِلَى الْإِيمَانِ (فتح الباري لابن حجر، جلد 4، صفحه 343)۔ یعنی ، ملت عوجا سے مراد ملتِ عرب ہے ان کو کج اس لیے کہا گیا کہ ان کے اندر بت پرستی آ گئی تھی ، اور ان کی اقامت سے مراد ان کو کفر سے نکال کر ایمان کی طرف لانا ہے۔ اس تشریح سے واضح ہے کہ اس حدیث سے مندرجہ بالا استدلال صحیح نہیں : 1۔ اول یہ کہ حدیث میں جس چیز کا ذکر ہے ، وہ ہے ”لا الہ الا اللہ کہلانا“۔ مگر معلوم نہیں کہ کس دلیل کی بنا پر اس کو ” دنیا کی اصلاح “ اور ” تشریعی حکومت کے قیام “ کے معنی میں لے لیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader