حدیث سے استدلال
Urdu book, p. 305
By Maulana Wahiduddin Khan
2۔ دوسرے یہ کہ حدیث کے الفاظ کے مطابق اس میں امت کا فریضہ نہیں بیان کیا گیا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے اپنے ایک عمل کا ذکر ہے۔ جس کو وہ رسول کے واسطہ سے انجام دے گا۔ أي يُقيمُ اللهُ تعالى بواسطَتِهِ المِلّةَ العَوجَاءَ بأن يقولوا: لا إله إلا الله (ارشاد الساری للقسطلانی، جلد 4، صفحہ 52)۔ 3۔ کہا گیا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول کی روح اس وقت تک قبض نہ کرے گا جب تک اس کے ذریعہ سے لوگوں سے لا الہ الا اللہ نہ کہلوالے۔“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں ایک ایسے واقعہ کا ذکر ہے، جس میں داعی کو اس وقت تک زندہ رہنا ہے، جب تک لوگ کلمۂ توحید اپنی زبان سے ادا نہ کر دیں۔ اب اگر اس فقرے سے رسول کی نیابت میں مومنین کا نصب العین اخذ کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم میں سے ہر شخص کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ اس وقت تک نہیں مرے گا، جب تک اپنے مخاطبین کو مسلمان نہ بنا لے ۔ کیا صاحب مضمون ایسا عہد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ 4۔ ”یہ دینی اصطلاح (اقامت دین) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زبان سے بارہا استعمال ہوئی ہے—‘‘ اس دعوے کے ساتھ ایک بزرگ نے کچھ حدیثیں پیش کی ہیں اور مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے: ”اگر موصوف ان احادیث پر بھی غور فرمائیں تو امید ہے کہ وہ ان میں سے کسی کے اندر بھی اقامت دین کے مفہوم کی وہ محدودیت نہ پاسکیں گے جس کے وہ قائل ہیں۔ اس کے برخلاف انھیں صاف نظر آئے گا کہ ان احادیث میں اقامت دین کا وہ سیاسی اور اجتماعی پہلو نہ صرف یہ کہ موجود ہے بلکہ نمایاں طور پر ابھری ہوئی شکل میں موجود ہے جس کے بارے میں ان کا اصرار ہے کہ وہ اقامت دین سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔“ مجھے اقامت دین کے ایک شرعی لفظ ہونے سے انکار نہیں۔ اور نہ اس سے انکار ہے کہ ”دین“ میں سیاسی احکام بھی شامل ہیں۔ مگر ان الفاظ کے حوالے سے اسلامی مشن کی جس تشریح کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader