Urdu book · تعبیر کی غلطی

حدیث سے استدلال

Urdu book, p. 306

By Maulana Wahiduddin Khan

حق میں استدلال کیا جا رہا ہے، وہ ہرگز اس سے نہیں نکلتا۔ اس اعتبار سے تمام پیش کردہ حدیثیں اصل مسئلے سے بالکل غیر متعلق ہیں۔ اس موقع پر میں ان میں سے دو نمایاں حدیثوں کا ذکر کروں گا۔ 1۔ پہلی حدیث وہ ہے جو صحیح البخاری کتاب الاحکام سے لی گئی ہے: إِنَّ هَذَا الأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ ، لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ ، مَا أَقَامُوا الدِّينَ“ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3497)۔ یہ روایت کئی طرق سے مختلف الفاظ میں آئی ہے جن کو حافظ ابن حجر (فتح الباری ، جلد 13 ، صفحہ 116) نے اکٹھا کر دیا ہے۔ اگر میں ان مختلف روایات کو نقل کر دوں تو اس کا مطلب آسانی واضح ہو جائے گا: (الف) إِنَّ هَذَا الأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا أَطَاعُوا اللَّهَ وَاسْتَقَامُوا عَلَى أَمْرِهِ (السنن الکبریٰ للبیہقی ، حدیث نمبر 16537)۔ (ب) الأَمْرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ مَا فَعَلُوا ثَلَاثاً: مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا ... (مسند احمد ، حدیث نمبر 19782)۔ (ت) يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّكُمْ أَهْلُ هَذَا الْأَمْرِ مَا لَمْ تُحْدِثُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 22355)۔ (د) أَنْئْتُمْ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ مَا كُنْتُمْ عَلَى الْحَقِّ (کتاب الام للشافعی، جلد 1 ، صفحہ 188)۔ ان احادیث میں ”امر“ سے مراد خلافت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عرب میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو اقتدار بخشا ہے ، اس میں خلافت کے منصب کے اولین حقدار قبیلہ قریش کے افراد ہیں۔ اور ان کا یہ حق اس وقت تک باقی رہے گا ، جب تک وہ دین پر قائم رہیں۔ اور اپنے فرائض کو شرعی تقاضوں کے مطابق انجام دیتے رہیں۔ جب تک وہ ایسا کریں گے ، خدا کی مدد انھیں حاصل رہے گی ، اور کوئی انھیں ان کے مقام سیادت سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page