Urdu book · تعبیر کی غلطی

حدیث سے استدلال

Urdu book, p. 307

By Maulana Wahiduddin Khan

میں سمجھ نہ سکا کہ اس ہدایت یا پیشین گوئی کا اس مسئلے سے کیا تعلق ہے، جس سے ہم یہاں بحث کر رہے ہیں۔ اگر موصوف کا مطلب یہ ہو کہ اس سلسلے کی بعض روایتوں میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ ”جب تک قریش دین کو قائم رکھیں“، اور اس قائم رکھنے کا تعلق محض اصل دین سے نہیں ہے، بلکہ حکومت و سیاست کے معاملات سے بھی ہے تو مجھے موصوف کے اس خیال سے اتفاق ہے، مگر افسوس کہ جو کچھ وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ اس سے ثابت نہیں ہوتا۔ کیوں کہ حدیث میں ایک ایسی ذمہ داری کا ذکر ہے، جو حاصل شدہ دائرے کے اندر اس کے مسلم حکمرانوں کو انجام دینا ہے۔ جب کہ زیر بحث مسئلہ یہ ہے کہ اہل ایمان کو مطلق اعتبار سے جو ”نصب العین“ اس دنیا میں سونپا گیا ہے، وہ کیا ہے۔ اس لیے انھیں اپنی بات ثابت کرنے کے لیے ایک ایسی حدیث پیش کرنے کی ضرورت تھی، جس میں کہا گیا ہو کہ ”اہل ایمان کا مشن یہ ہے کہ وہ زندگی کے تمام انفرادی واجتماعی شعبوں کو بدل کر دنیا میں ایک مکمل اسلامی حکومت قائم کریں“۔ دوسرے لفظوں میں ایک ایسے فقرے کی ضرورت تھی جس میں کار دعوت کی تشریح کی گئی ہو، نہ کہ ایک ایسا جملہ جس میں با اقتدار مسلمانوں کی حیثیت اور ان کے فرائض بیان کیے گئے ہوں۔ کیوں کہ اس سے تو مجھے بھی اتفاق ہے کہ مسلمانوں کا دائرہ عمل اگر حکومت اور سیاست تک پھیل جائے تو ایسی حالت میں ان کے لیے لازم ہے کہ حکومت و سیاست کے معاملات میں بھی خدا کے دین پر چلیں ۔ مگر یہی فقرہ دعوت اسلامی کی مطلق تشریح کے طور پر صحیح نہیں ہے۔ 2۔ دوسری حدیث ان الفاظ میں پیش کی گئی ہے: أُولَئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدِ صلى الله عليه وسلم اخْتَارَهُمُ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ وَلِإِقَامَةِ دِينِهِ یہ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے۔ پہلے میں پوری حدیث یہاں نقل کرتا ہوں: وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ كَانَ مُسْتَنًّا فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ فَإِنَّ الْحَيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ. أُولَئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا أَفْضَلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبَرَّهَا قُلُوباً وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا اخْتَارَهُمُ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ وَلِإِقَامَةِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page