Urdu book · تعبیر کی غلطی

حدیث سے استدلال

Urdu book, p. 308

By Maulana Wahiduddin Khan

دِينِهِ فَاعْرِفُوا لَهُمْ فَضْلَهُمْ وَاتَّبِعُوهُمْ عَلَى آثَارِهِمْ وَتَمَسَّكُوا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ أَخْلَاقِهِمْ وَسِيَرِهِمْ فَإِنَّهُمْ كَانُوا عَلَى الْهَدْيِ الْمُسْتَقِيمِ (رواه رزين بحوالہ مشكاة المصابيح، حدیث نمبر 193)۔ یعنی، جس کو تقلید کرنی ہو تو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کی تقلید کرے جو مر چکے ہیں۔ کیوں کہ زندہ شخص فتنے سے مامون نہیں ہوتا۔ جو لوگ گزر گئے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے، وہ اس امت کے بہترین افراد تھے، وہ سب میں زیادہ نیک دل، زیادہ گہرا علم رکھنے والے اور تکلفات سے بری تھے، اللہ نے ان کو منتخب کر لیا تھا اپنے نبی کی صحبت کے لیے اور اپنے دین کی اقامت کے لیے۔ تم ان کی بزرگی پہچانو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو اور جہاں تک ہو سکے ان کے سیرت و کردار کو اختیار کرو، کیوں کہ وہ ہدایت کے صحیح راستہ پر تھے۔ یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی ایک ناصحانہ گفتگو یا تقریر ہے، جو انہوں نے تابعین کے زمانہ میں کچھ مسلمانوں کے سامنے کی تھی۔ اس میں ”دین کی اقامت“ کے معنی دین کی پیروی کے ہیں۔ ابن مسعود یہ کہنا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرام وہ نمونہ کے بہترین لوگ تھے، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی صحبت کے لیے اور اپنے دین کی قبولیت اور پیروی کے لیے منتخب فرمایا۔ انہوں نے رسول کی رفاقت کا حق ادا کیا اور دین کو اختیار کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس لیے وہ سب سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ دینی معاملات میں ان کے اسوہ کو اپنے سامنے رکھا جائے ۔ ان کی زندگی پیروی دین کی بہترین مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے اس روایت کو "الاعتصام بالكتاب والسنة" کے باب میں درج کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک اس میں کتاب وسنت سے چمٹنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ اشعۃ اللمعات میں اس کا ترجمہ "برائے برداشتن دین دے" کے الفاظ میں کیا گیا ہے۔ برداشتن کے معنی ہیں اٹھانا۔ اس لحاظ سے مفہوم یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کا حامل بننے کے لیے چن لیا تھا— ظاہر ہے کہ یہ ایسی بات ہے جس سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا، مگر اس سے زیر بحث تشریح تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page