Urdu book · تعبیر کی غلطی

تعبیر کی غلطی

Urdu book, p. 309

By Maulana Wahiduddin Khan

ثابت نہیں ہوتی۔ اس تشریح کا ایک نقصان یہ ہے کہ اقامت دین کا لفظ جو اس تقریر میں ایک داخلی عمل کو بیان کرنے کے لیے آیا تھا، وہ اس مخصوص ذہن کی وجہ سے ایک خارجی عمل بن گیا۔ رسالہ زندگی میں اس حدیث پر ایک مضمون شائع ہوا ہے، جس کا عنوان مضمون نگار نے قائم کیا ہے: "صحابہ کرام اقامت دین کے سپاہی" (زندگی ستمبر 1962ء)۔ حالانکہ اس کا عنوان ہونا چاہیے: "صحابہ کرام دین کے بہترین پیرو"۔ فقہ سے استدلال ایک استدلال یہ ہے: "جہاد، قطع ید، حد قذف، حد خمر اور معاملات میں اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کرنا، یہ قرآن کے قطعی احکام ہیں، جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن آج ان پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ ہر مسلمان قرآن میں پڑھتا ہے۔ مدرسوں میں ان پر بحثیں ہوتی ہیں، مقررین اور مصنفین ان کی باریکیاں بیان کرتے ہیں۔ مگر جب عمل کا سوال آتا ہے تو بڑی آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے کہ اس کے لیے حکومت ضروری ہے اور آج اسلامی حکومت موجود نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ جب یہ احکام اسلامی حکومت پر موقوف ہیں تو پھر شرط موقوف علیہ کی تحصیل ہم پر واجب ہے۔ جیسا کہ شریعت اسلامی کا ایک کلیہ اور طے شدہ اصول ہے کہ فرائض و واجبات کی ادائیگی جن چیزوں پر موقوف ہوتی ہے، وہ بھی فرض اور واجب ہو جاتی ہیں۔ مثلاً وضو کی فرضیت کے ساتھ ساتھ پانی کے حصول کی کوشش بھی بقدر استطاعت فرض ہے۔ أَلَا تَرَى أَنَّ تَحْصِيلَ أَسْبَابِ الْوَاجِبِ وَاجِبٌ وَتَحْصِيلَ أَسْبَابِ الْحَرَامِ حَرَامٌ؟ (مسلم الثبوت مع شرحه فواتح الرحموت، جلد 1، صفحہ 94) ۔ یعنی، کیا تم نہیں جانتے کہ واجب کے ذرائع کا حاصل کرنا واجب اور حرام کے ذرائع کا حاصل کرنا حرام ہے باجماع (زندگی، دسمبر 1962ء)۔ اس استدلال میں ایک مغالطہ چھپا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ تحصیل اسباب الواجب واجب کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page