Urdu book · تعبیر کی غلطی

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

اصول کو اس طرح بیان کیا گیا ہے گویا یہ کوئی مطلق حکم ہے، اور اس کا تعلق ہر اس چیز سے ہے جو ”فرض اور واجب“ کی حیثیت سے قرآن وحدیث میں مذکور ہوئی ہیں۔ یعنی ہر وہ فعل جس کا شریعت میں حکم دیا گیا ہو۔ اہل ایمان کے لیے لازم ہے کہ اگر وہ بالفعل اس پر قائم نہ ہوں تو اس کے ان اسباب کو فراہم کرنے کی جدوجہد کریں۔ جس کے بعد وہ اس کے اوپر قائم ہوسکیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ صورت حال یہ نہیں ہے کہ ہر وہ فعل جو شرعاً واجب کی حیثیت رکھتا ہو، اس کے اسباب کا فراہم کرنا بھی لازماً واجب ہو، بلکہ اس کی کچھ شرطیں ہیں۔ یہاں ہم ایڈیٹر زندگی کے وہ الفاظ نقل کرتے ہیں جو انہوں نے مذکورہ بالا سطروں کے نیچے بطور نوٹ درج کیے ہیں: ”جس واجب کے اسباب وشروط کی تحصیل واجب ہوتی ہے، اس میں علمائے اصول فقہ نے دو قیدیں لگائی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ واجب مطلق ہو، شارع کی طرف سے کسی سبب یا شرط کے ساتھ مقید نہ ہو، دوسرے یہ کہ وہ سبب و شرط مکلف کے مقدور میں ہو۔ ان دو قیدوں میں سے کوئی ایک قید بھی اگر غائب ہو جائے تو پھر سبب و شرط کی تحصیل واجب نہ ہوگی۔ پہلی قید کی شرعی مثال وجوب زکوٰۃ کا مسئلہ ہے۔ چاندی سونے میں وجوب زکوٰۃ کا سبب ایک مکمل نصاب کی ملکیت ہے اور شرط حولان حول ہے، لیکن کسی مسلمان پر نہ اس سبب کی تحصیل واجب ہے اور نہ اس شرط کی۔ یعنی کسی مسلمان پر نہ تو یہ واجب ہے کہ وہ جدوجہد کر کے صاحب نصاب بنے اور نہ کسی صاحب نصاب پر یہ واجب ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے وہ سال بھر تک بہر حال نصاب کو محفوظ رکھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وجوب زکوٰۃ کا حکم مطلق نہیں ہے بلکہ شریعت کی طرف سے ایک مقید حکم ہے۔ شریعت کا مطالبہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان صاحب نصاب ہو اور سال بھر تک اس کے پاس نصاب محفوظ رہے تو اس سبب وشرط کی تحصیل کا فریضہ عائد نہیں ہوتا بلکہ جب سبب و شرط پائے جائیں تو اس حکم پر عمل واجب ہوتا ہے۔“ دوسری قید کی مثال نماز کے اوقات ہیں جن کو اسباب کی حیثیت حاصل ہے، لیکن ان اسباب کی تحصیل کسی پر واجب نہیں اس لیے کہ وہ انسان کے بس سے باہر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page