Urdu book · تعبیر کی غلطی

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 311

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اقتباس کا مطلب یہ نہیں کہ ایڈیٹر زندگی کو مذکورہ بالا مضمون نگار سے اختلاف ہے یا وہ اس بحث میں میری رائے سے متفق ہیں۔ وہ احکام کی مندرجہ بالا تقسیم کو تو مانتے ہیں۔ البتہ ان کا خیال ہے کہ ”چور کا ہاتھ کاٹنے اور زانی کو کوڑے مارنے“ کی تکلیف (Obligation) جو مسلمانوں کو دی گئی ہے، وہ ایک ”مطلق تکلیف“ ہے۔ اس کا وجود یا صحت ادا حکومت کی شرط پر موقوف ہے۔ اس لیے اس شرط کی تحصیل بھی یقیناً واجب ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں: ”علمائے حق اس پر متفق ہیں کہ نصب امام یا اسلامی حکومت کا قیام ان احکام کی ادائیگی کے لیے موقوف علیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی ان احکام کے وجوب میں بھی بات یہ نہیں ہے کہ اگر خلیفہ موجود ہو اور حکومت قائم ہو تو ان پر عمل کرو۔ بلکہ بات یہ ہے کہ یہ احکام جو تم پر واجب ہیں وہ نصب خلیفہ اور حکومت کے بغیر ادا نہیں ہو سکتے لہذا ان احکام پر عمل کرنے کے لیے تم پر اس شرط کی تحصیل واجب ہے۔“ (زندگی، دسمبر 62ء، مطابق رجب 82ھ) موصوف نے یہاں علمائے حق کے جس ”اتفاق“ کا ذکر کیا ہے، وہ بجائے خود صحیح ہے۔ یعنی اجتماعی احکام کے نفاذ کے لیے اسلامی حکومت کی موجودگی ضروری ہے۔ مگر خود اجتماعی احکام کے مخاطب کون لوگ ہیں۔ یہ ایک الگ مسئلہ ہے، جو اس ”اتفاق“ سے نہیں نکلتا۔ موصوف کی غلطی یہی ہے کہ وہ ان احکام کا مخاطب عام اہل ایمان کو قرار دے رہے ہیں۔ جس ”تم“ کے لیے یہ حکم ہے، اس ”تم“ کے اطلاق میں غلطی کر رہے ہیں۔ حالانکہ اجتماعی اور تمدنی احکام کا مخاطب اہل ایمان کا وہ معاشرہ ہے جو با اختیار رکھتا ہو، نہ کہ عام اور متفرق اہل ایمان۔ یعنی یہ مقید حکم ہے، نہ کہ مطلق حکم۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب کا باب ”دین کا صحیح تصور“) دوسری بات یہ ہے کہ ان احکام کا مقید یا مشروط ماننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ”جب حکومت قائم ہو تو ان پر عمل کرو۔“ بلکہ اس شرط یا قید کا مطلب یہ ہے کہ ان احکام کے نفاذ کا مطالبہ عام مسلمانوں سے نہیں ہے، بلکہ آزاد اور با اختیار اہل ایمان اس کے مخاطب ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page