Urdu book · تعبیر کی غلطی

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 312

By Maulana Wahiduddin Khan

جب بھی اہل ایمان کا کوئی ایسا گروہ پایا جائے تو اس پر فوراً یہ حکم عائد ہو جائے گا اور اس کے لیے ضروری ہو گا کہ اس ’’سبب‘‘ کو حاصل کرے جو ان احکام کی تعمیل کے لیے موقوف علیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی اسلامی حکومت قائم کرے تا کہ ان احکام کو اس کے درمیان نافذ کیا جا سکے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ با اختیار مسلم معاشرہ پر ان احکام کی تنفیذ واجب ہے اور چونکہ اس پر ان کی تنفیذ واجب ہے اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے درمیان اسلامی حکومت قائم کرے تا کہ ان احکام کو نافذ کر سکے۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی ، بلکہ اس استدلال میں اور بھی غلطی چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ جہاں تک زیر بحث تعبیر کا تعلق ہے، اس کے حق میں نصب امامت کے مسئلہ سے استدلال کرنا سرے سے غلط ہے۔ کیوں کہ یہ تعبیر پورے کارِ دعوت کی تشریح ہے۔ وہ سارے احکام کے بارے میں ہماری ذمہ داری کو بتاتی ہے۔ جب کہ نصب امامت کا مسئلہ صرف کسی سوسائٹی کی سیاسی تنظیم سے متعلق ہے، وہ ایک محدود مسئلہ کے بارے میں اسلام کے تقاضے کو بتاتا ہے ۔ اس سے زیر بحث تعبیر پر استدلال کرنا ایسا ہی ہے، جیسے معاشی تقاضوں سے پیدا ہونے والے مسائل کو سامنے رکھ کر پورے انسان کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ ظاہر ہے کہ معاشی حکم زندگی کے ایک جزئی مسئلہ سے متعلق ہے۔ اس کو پورے انسان کے مطالعہ کا عنوان نہیں بنایا جا سکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ زیر بحث تعبیر اسلامی مشن کا جو تصور دیتی ہے، وہ ہے ساری دنیا میں اسلامی حکومت کا قیام۔ یعنی یہ تعبیر ہمارے اس کام کی تشریح ہے، جو مسلم اور غیر مسلم سب کے اوپر علی الاطلاق ہمیں انجام دینا ہے۔ ہم جہاں ہوں اور جس حال میں بھی ہوں، یہی وہ مشن ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں سپرد ہوا ہے۔ اور اسی کے لیے ہمیں متحرک ہونا ہے۔ یہی اس لٹریچر کی اصل دعوت ہے، جو تمام کتابوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ مگر نصب امامت کے مسئلہ کا اس قسم کے کسی نصب العین سے کوئی تعلق نہیں۔ نصب امامت کی فرضیت قطعی طور پر مسلمانوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page