فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 313
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے دائرہ کار کے اعتبار سے ہے، نہ کہ ساری دنیا سے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ جب یہ امامت قائم ہوتی ہے تو اس کے علاقے میں بسنے والے غیر مسلمین بھی اس کے ماتحت ہو جاتے ہیں اور اس کے بہت سے احکام خود ان کے اوپر بھی نافذ ہوتے ہیں۔ مگر متکلمین جب کہتے ہیں کہ: اَلْمُسْلِمُونَ لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْ إِمَامٍ (العقائد النسفية مع شرحہ للتفتازانی، صفحہ 467)۔ یعنی، مسلمانوں کے لیے ایک امام ضروری ہے۔ یَا نَصْبُ الْإِمَامِ عِنْدَنَا وَاجِبٌ (المواقف في علم الكلام لایجی، صفحہ 395)۔ یعنی، مسلمانوں کے لیے اپنے اوپر امام مقرر کرنا ہمارے نزدیک واجب ہے۔ تو یہ مسلمانوں سے متعلق ایک فریضہ کا بیان ہوتا ہے، یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ”مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ دنیا کے تمام مومنین اور غیر مومنین پر اسلامی حکومت قائم کریں“۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ۔ ”مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنے درمیان احکام اسلامی کے نفاذ اور مصالح شریعت کے تحفظ کے لیے اپنا ایک سیاسی امیر مقرر کریں“۔ جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ میرا اعتراض دراصل نصب العین کی اس تشریح پر ہے، جو زیر بحث لٹریچر میں کی گئی ہے۔ اور اس لحاظ سے نصب امامت کے مسئلہ کا حوالہ میرے اعتراض کو دفع نہیں کرتا۔ اس سے زیر بحث تشریح کے حق میں استدلال کرنا ایسا ہی ہے جیسے نماز با جماعت کے لیے امام مقرر کرنے کے احکام کا حوالہ دے کر کوئی شخص یہ حکم نکالے کہ ”ساری دنیا کے اوپر امام مقرر کرو“۔ واضح ہو کہ مجھے نصب امامت یا اسلامی حکومت سے کوئی ضد نہیں ہے۔ اگر ایسا کوئی واقعہ یہاں رونما ہو سکے تو یقیناً مجھے خوشی ہوگی۔ میں اس کے لیے بھی تیار ہوں کہ کوئی واقعی عملی موقع ہو تو اس کی جدوجہد میں شریک ہونے کو میں اپنی سعادت سمجھوں۔ مجھے دراصل اس تشریح پر اعتراض ہے، جس نے دین کا حقیقی تقاضا اور اہلِ ایمان کا مشن یہی قرار دیا ہے کہ دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی جدوجہد کی جائے۔ ایک بات عملی حیثیت سے کسی وقت صحیح ہو سکتی ہے لیکن اگر اس کو عمومی اور نظریاتی حیثیت دی جائے تو یہ نظریہ بجائے خود غلط ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader