فقہ سے استدلال
Urdu book, p. 314
By Maulana Wahiduddin Khan
2۔ ایک صاحب لکھتے ہیں: ”اگر خالص فقہی اور قانونی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اس کے نتیجے میں بھی یہاں کے مسلمانوں کی ذمہ داری یہی ثابت ہوگی کہ ( وہ جماعت کے پیش کردہ نصب العین کے مطابق اس ملک میں اسلامی انقلاب لانے کی جدوجہد کریں ) انگریزی دور حکومت سے پہلے ہندوستان دارالاسلام تھا لیکن اس کے بعد کفار نے اس دار الاسلام پر قبضہ کر لیا اور اسے دارالکفر میں تبدیل کر دیا۔ ایسی صورت حال کے بارے میں فقہا کا فتویٰ یہ ہے کہ اس قبضۂ کفر کو ختم کرکے ملک کو پھر سے دارالاسلام بنا لینا مسلمانوں پر واجب ہے۔“ اس استدلال میں بیک وقت دو غلطیاں کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ ایک ایسا حکم جو مخصوص اور وقتی معاملہ سے متعلق ہے ، اس کو عمومی حیثیت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ مغصوبہ دار الاسلام کو واپس لینے کا مسئلہ ایک وقتی صورت حال کے بارے میں شریعت کے حکم کو بیان کرتا ہے۔ جب کہ ہم یہاں ایک عام اور مطلق نوعیت کے مسئلہ سے گفتگو کر رہے ہیں۔ فقہی مسئلہ صرف یہ بتاتا ہے کہ فلاں مخصوص صورت پیش آجائے تو اس وقت مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ۔ اس کے برعکس ، ہم جس مسئلہ پر غور کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہر حال میں مسلمانوں کے کرنے کا کام کیا ہے۔ موصوف اس نکتہ کو نہایت آسانی سے سمجھ سکتے تھے۔ اگر وہ یہ سوچتے کہ ان کا یہ استدلال ، اگر اس کا انطباق صحیح ہو ، صرف ہندوستان کے مسلمانوں کی حد تک ان کے لیے ایک سیاسی نصب العین کا جواز فراہم کرتا ہے۔ مگر اس استدلال میں ان بہت سے ملکوں کے لیے اس طرح کا نصب العین اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ، جو فقہی مفہوم کے لحاظ سے کبھی ” دارالاسلام “ نہیں بنے تھے۔ حالانکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ جس چیز کو آپ اسلام کا مشن کہہ رہے ہیں، وہی ساری دنیا کے مسلمانوں کا واحد مشن ہونا چاہیے۔ اس کی دوسری غلطی یہ ہے کہ اس میں ایک سیاسی حکم سے ایک نظریاتی مسئلہ کے بارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader