Urdu book · تعبیر کی غلطی

فقہ سے استدلال

Urdu book, p. 315

By Maulana Wahiduddin Khan

میں استدلال کیا گیا ہے۔ سیاست سے متعلق صرف سیاست کے بارے میں شریعت کے تقاضہ کو بیان کرتا ہے، جس طرح عبادت سے متعلق ایک حکم، عبادت سے متعلق شریعت کے تقاضے کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن زیر بحث مسئلہ پوری شریعت کی توجیہ سے متعلق ہے۔ پھر ایک جزئی حکم سے پورے مجموعے کے بارے میں کیسے رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ کیا ساری شریعت صرف اس مخصوص جزء کا نام ہے۔ موصوف کو یہ دلیل پیش کرتے ہوئے یاد نہیں رہا کہ وہ ایک خالص سیاسی حکم سے اپنے نصب العین کے حق میں استدلال کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس نصب العین کے بارے میں خود ان کا اپنا دعویٰ ہے کہ وہ دین کے سارے تقاضوں سے متعلق ہے، نہ کہ صرف اس کے سیاسی حصہ سے۔ آخر میں استدلال کی ایک اور قسم ہمارے سامنے آتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دلیل کے میدان میں اپنی کمزوری محسوس کرنے کے بعد اس عجیب و غریب منطق سے اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی بات کے لیے کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تم نے خواہ مخواہ ہم کو ”دلیل کے چکر“ میں ڈال دیا۔ ورنہ یہ بات تو اتنی واضح ہے کہ اس کو تم خود اپنی عقل سے سمجھ سکتے ہو۔ اس کے لیے شرعی دلیل کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو محض تاریخی حالات کا اثر ہے کہ ”مسلمانوں کو اب یہ بات بڑی اوپری سی لگتی ہے کہ ہم پر یہ بھی فرض ہو کہ ہم حالات کو بدلیں“۔ یہی وجہ ہے کہ ”اب ہمیں قرآن کی ایسی واضح آیات کی تلاش ہے جس میں ہمیں یہ حکم مل جائے کہ انقلاب امامت مسلمانوں پر فرض ہے ـــــ اور چونکہ ایسا واضح حکم ہمارے سامنے نہیں آتا، اس لیے ہم ایسی تمام آرزوؤں کو غلط اور ایسی تمام کوششوں کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں جو کسی صالح انقلاب کے لیے ہو۔“ (الحسنات، مارچ دوم 1962ء) یہ استدلال مولا نا صدرالدین صاحب کی اس تحریر سے لیا گیا ہے، جو انہوں نے میرے جواب میں تیار کی تھی۔ ان کے اس نکتہ کا جواب ابتداء میں نے ابواللیث صاحب کے نام اپنے خط مورخہ 19 اگست 1962ء میں دیا تھا، جو کہ اس کتاب کے دوسرے باب میں شامل ہے۔ اب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page