Urdu book · تعبیر کی غلطی

غلط تعبیر کے نتائج

Urdu book, p. 317

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط تعبیر کے نتائج ”قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں“— اس تعبیر کے تحت پیدا شدہ لٹریچر میں ایک اہم ترین کتاب ہے جس میں دین کا ”وسیع اور مکمل“ تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں ”عبادت“ کی بحث کو ختم کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ”جو لوگ قرآن کی دعوت کا ایک محدود تصور لے کر ایمان لائیں گے، وہ اس کی ناقص و ناتمام پیروی کریں گے۔“ مگر افسوس کہ قرآنی دعوت کو وسیع اور مکمل کرنے کی کوشش اس کو محدود کرنے کی ایک نئی صورت بن گئی۔ دین کے ناقص تصور کی وجہ سے فطرت اور دین کے درمیان صحیح رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دین کے اثرات و نتائج بھی صحیح شکل میں برآمد نہ ہوسکے۔ بجلی کے لیمپ میں آپ کو اس کا تجربہ ہوا ہوگا کہ اس کا پلگ اگر ٹھیک سے لگا ہوا نہ ہو اور آپ بٹن دبائیں تو لیمپ یا تو کم روشنی دے گا یا جل کر بجھ جائے گا۔ یا صرف تار سرخ ہو کر رہ جائے گا۔ لیکن اگر پلگ اپنی جگہ پر ٹھیک سے بٹھا دیا جائے تو لیمپ پوری طرح روشن ہو جاتا ہے ۔ اور مسلسل روشنی دیتا رہتا ہے۔ اس مثال میں پلگ خدا کا دین ہے۔ اور اس کا خانہ آپ کی فطرت، اور جو ہاتھ اس کو خانے میں نصب کرتا ہے وہ آپ کا تصور ہے۔ اگر تصور غلط ہو تو اس کا انجام اس ہاتھ کا سا ہو جو پلگ کو اس کے خانہ میں ٹھیک ٹھیک بٹھانے میں غلطی کر جائے۔ یہی حال زیر بحث فکر کا ہے۔ اس کی ایک کجی کی وجہ سے انسانی فطرت اور خدا کے دین کے درمیان صحیح رشتہ قائم نہ ہوسکا، جس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ زندگیوں میں خدا پرستی کے حقیقی اثرات ظاہر نہ ہوں۔ یہ کجی اگرچہ مخفی نوعیت کی کجی تھی۔ مگر دین کی ترکیب اتنی نازک ہے کہ اگر اس میں ذرا سا بھی فرق پڑ جائے تو پیچیدہ مشین کی طرح اس میں اس سرے سے اُس سرے تک خلل واقع ہو جاتا ہے۔ ایک ذرا سے فرق سے اس کی ساری حرکت متاثر ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page