Urdu book · تعبیر کی غلطی

تعبیر کی غلطی

Urdu book, p. 318

By Maulana Wahiduddin Khan

تعمیر کی بنیاد پر جو افراد تیار ہوئے ہیں، ان کے سلسلے میں آج خود اس تعبیر کے حاملین کا تقریباً متفقہ احساس ہے کہ ان کے اندر حقیقت دین پیدا نہیں ہوئی ۔ یہاں میں اس کے چند پہلوؤں کی طرف اشارے کروں گا۔ پہلے نظریاتی اور اس کے بعد عملی۔ نقطہ نظر میں فرق تعبیر کی اس غلطی کا پہلا کھلا ہوا نقصان یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ذہنوں میں دین کا تصور بدل گیا۔ ہر چیز میں کچھ جزئی پہلو ہوتے ہیں۔ اور ایک اس کی مجموعی حقیقت ہوتی ہے۔ جزئی پہلوؤں میں سے کسی کے بارے میں مشاہدہ غلطی کر جائے تو یہ غلطی اپنے مقام پر کی رہتی ہے، لیکن مجموعی حقیقت کے بارے میں تصور کا بدل جانا پورے وجود کے بارے میں نقطہ نظر کو بدل دیتا ہے۔ ارسطو کا خیال تھا کہ عورتوں کے منھ میں مرد سے کم دانت ہوتے ہیں۔ یہ اگر چہ ایک غلطی تھی، مگر جزئی اور مقامی غلطی تھی۔ اس لیے اس کی وجہ سے زندگی میں کوئی حقیقی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بجائے جن مفکرین نے عورت کے بارے میں مساوات کا نظریہ پیش کیا اور یہ سمجھا کہ عورت اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے ویسی ہی ہے جیسے مرد، انہوں نے عورت کے پورے وجود کے متعلق غلط رائے قائم کی۔ اس کی وجہ سے عورت کی پوری ہستی کے بارے میں ان کی رائے کچھ سے کچھ ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں خاندان اور سماج کے اندر ایسی خرابیاں پیدا ہوئیں جن کا اس فکر کے ابتدائی موجدین نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ زیر بحث تعبیر کی غلطی کا تعلق بھی مجموعی فکر سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جن ذہنوں میں جگہ بنائی وہ پورے مجموعہ دین کو ایک مختلف نظر سے دیکھنے لگے۔ اور جب مجموعہ کے بارے میں نقطہ نظر بدل جائے تو پھر اسی نسبت سے سارے متعلق اجزاء کی حیثیت میں فرق آ جاتا ہے۔ اس فکر نے دین کی جو تصویر بنائی ہے، اس میں بظاہر سارے اجزائے دین موجود ہیں۔ مگر سب کے سب اپنے اصل مقام سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اس میں اجزائے دین کی ترتیب کچھ اس ڈھنگ سے ہوئی ہے کہ دیکھنے والا جب اس کو دیکھتا ہے تو اس میں اسلام بحیثیت ”نظام‘‘

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page