Urdu book · تعبیر کی غلطی

تعبیر کی غلطی

Urdu book, p. 319

By Maulana Wahiduddin Khan

تو بہت ابھرا ہوا نظر آتا ہے، مگر اس کا تعبدی پہلو کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس تصویر میں ایمان، اسلام، تقویٰ، احسان، سب کچھ موجود ہے۔ ے مگر یہ الفاظ اصلا تعلق باللہ کے مراحل کو ظاہر نہیں کرتے بلکہ وہ ”تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں“ ہیں۔ وہ تعلق باللہ کے مخصوص مظاہر کے پیمانے ہیں جو امامت صالحہ اور ”نظام حق کے قیام“ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ جو اس تعبیر کے نزدیک ”دین کا حقیقی مقصود“ اور دنیا میں ”مسلمان کی سعی کا منتہاہے۔ یہ حقیقت ایمانی کے ظہور کے وہ مراتب ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ آدمی مذکورہ بالا انقلابی جدوجہد کے اعتبار سے کس مقام پر ہے۔ جب دین کا تصور یہ ہو جائے تو پھر آپ کو تعجب نہ کرنا چاہیے۔ اگر ایسے افراد کا دینی تعلق ایک مخصوص سیاسی ڈھانچے کے نفاذ کے بارے میں تو خوب ظاہر ہوتا ہو، مگر ذکر و شکر اور اخبات و انابت کی حقیقتیں ان کے یہاں غائب ہو گئی ہوں ۔ غیر شعوری عمل ایک اینٹ کی پوزیشن بدل دی جائے تو اس میں اتنا ہی فرق ہو کر رہ جائے گا، جتنا ایک بار پیدا ہوا ہے۔ مگر انسانی ذہن بدلنے کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان ایک فکری مخلوق ہے۔ اس کا ذہن بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سوچنے کی لائن بدل گئی۔ اس کے بعد ساری چیزیں اس کے ذہن میں ایک نئے انداز سے ڈھلنا شروع ہو جائیں گی۔ حتی کہ بہت سی واضح اور کھلی ہوئی باتوں کے سلسلے میں بھی اس کا ذہن غیر شعوری طور پر ایسی عجیب و غریب رائے ئیں قائم کر لے گا کہ اسے خود بھی خبر نہیں ہوگی کہ اس نے کیا کیا۔ ایمان، اسلام، تقویٰ، احسان کی اصطلاحات جن تدریجی معنوں میں اس لٹریچر میں استعمال ہوئی ہیں، وہ اس مخصوص مفہوم میں قرآن میں موجود نہیں ہیں۔ مگر یہ ایک لفظی سی بات ہے اس لیے اس پر اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ یہ الفاظ خواہ تدریجی معنوں میں قرآن وحدیث میں نہ آئے ہوں، لیکن یہ تو ایک واقعہ ہے کہ ایمان ایک ترقی پذیر حقیقت ہے، اور اس کے اگلے پچھلے مراحل ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی تشریح کے لیے ہم کچھ اور الفاظ استعمال کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page