Urdu book · تعبیر کی غلطی

غیر شعوری عمل

Urdu book, p. 320

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سلسلے میں زیرِ بحث ذہن کی چند مثالیں لیجیے : قرآن کی ایک آیت ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ (135: 4)۔ "قوام" "قائم" کا مبالغہ ہے جس کا مطلب ہے خوب قائم کرنے والا یا خوب قائم رہنے والا۔ اس لحاظ سے یہاں قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ کے معنی قسط کی ٹھیک ٹھیک پیروی کے ہیں۔ چنانچہ اردو مترجمین نے اس فقرے کا ترجمہ "اے ایمان لانے والو! انصاف پر قائم رہو" یا "انصاف پر خوب قائم رہنے والے بنو" کے الفاظ میں کیا ہے۔ اور یہی اس کے اصل مفہوم کے لحاظ سے زیادہ صحیح ترجمہ ہے۔ علامہ آلوسی بغدادی اس فقرے کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ أَي : مُواظِبِينَ عَلَى الْعَدْلِ فِي جَمِيعِ الْأُمُورِ، مُجْتَهِدِينَ فِي ذَلِكَ كُلَّ الاجْتِهَادِ، لَا يَضُرَّكُمْ عَنْهُ صَارِفُ ( تفسیر روح المعانی، جلد 3، صفحه 161)۔ یعنی، تمام معاملات میں عدل کی روش پر قائم رہو اس پر پوری کوشش کرو، کوئی پھیرنے والا تمہیں عدل کی روش سے پھیر نہ سکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فقرے میں اہل ایمان کی اپنی ذات کے بارے میں ایک حکم ہے۔ وہ ان سے کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے معاملات میں پوری طرح قسط کی روش پر عامل ہو جائیں۔ لیکن زیرِ بحث ذہن نے چونکہ دین کا تصور ایک ایسے ”نظام“ کی شکل میں کیا ہے جس کو زمین پر جاری و نافذ کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے ذہن میں قیام کا یہ فعل ایک خارجی فعل بن گیا۔ اور اس نے اس کا ترجمہ کیا: "اے ایمان لانے والو! انصاف کے علَمبردار بنو" (تفہیم القرآن، جلد 1)۔ اس علَمبرداری کی مزید تفصیل اس نوٹ سے ہوتی ہے جو اس ترجمہ کے نیچے دیا گیا ہے: ”یہ فرمانے پر اکتفا نہیں کیا کہ انصاف کی روش پر چلو، بلکہ یہ فرمایا کہ انصاف کے علَمبردار بنو۔ تمہارا کام صرف انصاف کرنا ہی نہیں ہے، بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھنا ہے۔ تمہیں اس بات پر کمر بستہ ہونا چاہیے کہ ظلم مٹے اور اس کی جگہ عدل و راستی قائم ہوٹہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page