غیر شعوری عمل
Urdu book, p. 321
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو ۔ عدل کو اپنے قیام کے لیے جس سہارے کی ضرورت ہے مومن ہونے کی حیثیت سے تمہارا مقام یہ ہے کہ وہ سہارا تم بنو۔‘‘ (تفہیم القرآن، سورۃ النساء، نوٹ نمبر 164) دیکھیے ذہن کے فرق کی وجہ سے ایک ذاتی نوعیت کا حکم، غیر شعوری طور پر عالمی انقلاب برپا کرنے کے ہم معنی ہو گیا۔ 2۔ عربی زبان میں ’’عبادت‘‘ کا جو مفہوم ہے اس کو ظاہر کرنے کے لیے لغت کی کتابوں میں اکثر ’’خضوع‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ خضوع کے معنی ہیں جھکنا، کسی کے آگے اپنے آپ کو پست کرنا۔ یہ ایک حسی کیفیت ہے جو ابتداً قلب میں پیدا ہوتی ہے، اور اعضاء و جوارح پر اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ مگر زیر بحث ذہن کے لیے عبادت کا تصور کسی حسی کیفیت کی صورت میں کرنا مشکل ہے۔ اس کے نزدیک دین کا انتہائی تصور یہ ہے کہ وہ ایک مکمل نظام کی شکل میں زمین پر موجود ہو جائے—دوسرے لفظوں میں دین اپنی آخری شکل میں ایک طرح کے ظاہری ڈھانچہ کا نام ہے، نہ کہ کسی قلبی حالت کا۔ چنانچہ خضوع کا مفہوم اس کے ذہن میں بدل گیا۔ ذیل میں چند ترجمے ملاحظہ ہوں: (الف) الْعِبَادَةُ: الطَّاعَةُ مَعَ الخضوع (عبادت اس اطاعت کو کہتے ہیں جو پوری فرماں برادری کے ساتھ ہو)۔ (ب) إِيَّاكَ نَعْبُدُ : أَي نُطِيعُ الطَّاعَةَ الَّتِي يُخْضَعُ مَعَهَا (ہم تیری عبادت کرتے ہیں، یعنی ہم تیری اطاعت پوری فرماں برادری کے ساتھ کرتے ہیں)۔ (ج) فُلَانٌ عَابِدٌ، وَهُوَ الخَاضِعُ لِرَبِّهِ، المُسْتَسْلِمُ المُنْقَادُ لِأَمْرِهِ (وہ اپنے مالک کافرماں بردار اور اس کے حکم کا مطیع ہے)۔ ( قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں، باب عبادت، آغاز) ’’فرماں برادری‘‘ کے معنی بعینہ وہی ہیں جو اطاعت کے معنی ہیں۔ اس لحاظ سے اس ترجمہ کا مطلب یہ ہوا کہ ’’عبادت پوری طرح اطاعت کرنے کا نام ہے۔‘‘ ظاہر ہے کہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader