غیر شعوری عمل
Urdu book, p. 322
By Maulana Wahiduddin Khan
ترجمہ میں خضوع کا مفہوم سرے سے غائب ہو گیا۔ 3۔ سورۂ احزاب کے پانچویں رکوع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عمل کے متعلق مخالفین کے اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جو فقرے ارشاد ہوئے ہیں ان میں سے ایک جملہ خاتم النبیین ہے (40:33)۔ اس سلسلہ بیان میں یہ فقرہ کیوں آیا ہے "تفہیم القرآن“ میں اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا ہے: ”اور وہ خاتم النبیین ہیں یعنی ان کے بعد کوئی رسول تو درکنار کوئی نبی تک آنے والا نہیں ہے کہ اگر قانون اور معاشرے کی کوئی اصلاح ان کے زمانے میں نافذ ہونے سے رہ جائے تو بعد کا آنے والا نبی یہ کسر پوری کر دے۔ لہٰذا یہ اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا تھا کہ اس رسم جاہلیت کا خاتمہ وہ خود ہی کر کے جائیں“، (تفہیم القرآن، جلد 4، الاحزاب، حاشیہ نمبر 77؛ ختم نبوت، 1962ء، صفحہ 7)۔ چونکہ تبلیغ کے بجائے ”قیام اور نفاذ“ کا تصور پہلے سے ذہن میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس لیے کار نبوت کی تشریح کرتے ہوئے غیر شعوری طور پر ”نافذ کرنے“ اور عملاً ختم کرنے کے الفاظ زبان پر آگئے۔ حالانکہ اگر کار نبوت کی ادائیگی کا یہ مطلب ہو کہ ہر نبی کو جو کچھ خدا کی طرف سے ملے وہ اس کو بالفعل کر کے دکھائے، اور جو کچھ غلط ہو اس کا عملاً خاتمہ کر دے تو یہ ایک ایسا معیار ہے جو کسی ایک نبی کے یہاں بھی نہیں ملے گا۔ پچھلے انبیاء تو درکنار خود آخری رسول بھی جن کو نسبتًا کام کا زیادہ موقع ملا وہ بھی اس معیار پر پورے نہیں اتر سکتے۔ (مثال کے طور پر والدین سے سلوک کے بارے میں آپ کی معرفت جو احکام نازل ہوئے، ان کا عملی مظاہرہ آپ نے نہیں فرمایا)۔ چنانچہ سورۂ احزاب کے اس فقرے کی تشریح میں امام رازی اور علامہ آلوسی نے بھی ٹھیک یہی بات کہی ہے، مگر وہاں ”نافذ کرنے“ کے بجائے ”بیان کرنے“ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ امام رازی لکھتے ہیں : وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَذَلِكَ لِأَنَّ النَّبِيَّ الَّذِي يَكُونُ بَعْدَهُ نَبِيٌّ إِنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader