تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 323
By Maulana Wahiduddin Khan
النَّصِيحَةِ وَالبَيَانِ يَسْتَدْرِكُهُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَهُ، وَأَمَّا مَنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ يَكُونُ أَشْفَقَ عَلَى أُمَّتِهِ وَأَهْدَى لَهُمْ وَأَجْدَى، إِذْ هُوَ كَوَالِدِ لِوَلَدِهِ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غَيْرُهُ مِنْ أَحَدٍ (التفسير الكبير، جلد 25، صفحہ 171)۔ یعنی، یہاں خاتم النبیین اس لیے فرمایا کہ ایسا نبی جس کے بعد دوسرا نبی آنے والا ہو، اگر وہ بتانے اور نصیحت کرنے میں کوئی کمی کرے تو بعد کو آنے والا نبی اسے پورا کر سکتا ہے۔ مگر جس کے بعد کوئی نبی آنے والا نہ ہو وہ تو اپنی امت کے اوپر زیادہ شفیق ہوگا۔ اور انھیں زیادہ رہنمائی دینے والا اور زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہوگا۔ کیوں کہ اس کی حیثیت ایسے باپ کی سی ہے جس کے لڑکے کا اس کے بعد کوئی سرپرست نہ ہو۔ دونوں جگہ ایک ہی بات ہے۔ مگر پہلی مثال میں ذہن نے اس کو "نفاذ" اور "خاتمہ" سے تعبیر کیا اور دوسری مثال میں "نصیحت" اور "بیان" سے۔ واضح ہو کہ سورہ احزاب کے اس مخصوص ٹکڑے میں جس کا نبوت کا ذکر ہے، وہاں عمل بھی مطلوب تھا۔ کیوں کہ اس کے بغیر عربی مسلمانوں کی وہ نفسیاتی کراہت دور نہیں ہو سکتی تھی جو صدیوں کی روایات کی وجہ سے متنبنیٰ کی منکوحہ سے شادی کرنے کے متعلق ان کے اندر پیدا ہو گئی تھی۔ مگر تفہیم القرآن کے محولہ فقرے میں یہ بات نہیں کہی گئی ہے بلکہ وہاں ایک عام اصول کے طور پر اس کو بیان کیا گیا ہے۔ اور اس اعتبار سے یہ تشریح غلط ہے۔ یہ نظریاتی اعتبار سے اس تعبیر کی غلطی کے چند نتائج تھے۔ اب میں اس کے عملی نتائج کا ذکر کروں گا۔ (نظریاتی نتائج کی مزید مثالیں کتاب کے دوسرے ابواب میں دیکھی جا سکتی ہیں)۔ قرآن سے بے تعلقی جو لوگ دین کی کسی غلط تعبیر سے متاثر ہوں، ان کو خدا کی کتاب سے اتنی دلچسپی نہیں ہو سکتی جتنی اس مخصوص تشریح سے ہوگی جس کو انہوں نے حق سمجھ کر قبول کیا ہے، وجہ بالکل ظاہر ہے۔ قرآن میں دین کی تشریح اپنے تصور دین کے مطابق ہے، نہ کہ کسی اور تصور کے مطابق۔ جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader