Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین کو اپنے ذہنی سانچے میں ڈھالنا

Urdu book, p. 325

By Maulana Wahiduddin Khan

تشریح اسی کی روشنی میں کریں گے۔ دین کے کسی جز ء کو آپ اس وقت تک سمجھ ہی نہیں سکتے، جب تک سیاست کے مرکزی تصور سے اس کا تعلق معلوم نہ کر لیں۔ یہاں تک کہ نماز آپ کے ذہن میں ایک تربیتی ضمیمے کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کا مقصد اسلام کے لیے سیاسی مجاہدین تیار کرنا ہوگا۔ اور اگر کوئی مسلمان کسی غیر آباد جزیرے میں اپنے آپ کو تنہا پائے تو اس فلسفے سے متاثر شخص کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو گا کہ وہاں نماز کی آخر کیا ضرورت ہے۔ ایسا آدمی اپنے ذہن سے مجبور ہو گا کہ ہر سوال کا جواب سیاسی ڈکشنری میں ڈھونڈنے کی کوشش کرے۔ اسلام کے کسی جز ء کی ایسی تشریح اس کو مطمئن ہی نہیں کر سکتی، جس کے اندر سیاست کی چاشنی موجود نہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر آپ دیکھیں کہ اسلامی کارکنوں میں جوش و جذبے کی کمی ہے۔ خدا کے لیے تڑپ اور اس کے لیے آنسو بہانے کی کیفیت ان میں نہیں پائی جاتی، تو آپ کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہوگی کہ کارکنوں کی زندگی سیاسی ہلچل سے خالی ہے۔ آپ کا بہترین مشورہ یہ ہوگا کہ ایسے پروگرام اختیار کیے جائیں، جو انھیں وقت کی سیاسی طاقتوں سے ٹکرانے والے ہوں۔ بے شک اہل ایمان کی زندگی میں ایسے مراحل بھی پیش آتے ہیں۔ مگر اسلامی تڑپ پیدا کرنے کے لیے دوسرے اس سے زیادہ مؤثر ذرائع ہیں، جو آپ کے اپنے پاس موجود ہیں اور ہر وقت حاصل ہو سکتے ہیں ـــ قرآن کا مطالعہ، کائنات کی نشانیوں پر غور کرنا، لمبی لمبی نمازیں، روزے کی مشقت، رات کے وقت آپ کے پہلو کا بستر سے جدا رہنا، تنگی کے باوجود خدا کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنا، آخرت کی طلب میں اپنے ذوق، اپنی عادتوں اور اپنے آرام و عیش کو ترک کرنا۔ اس قسم کے بے شمار مواقع ہیں، جو ہر آن اور ہر جگہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اور ان میں سے ہر ایک آپ کو تڑپا دینے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر آپ صرف اس لیے ان سے محروم رہے کہ آپ کے ذہن میں دین کی ایک خود ساختہ تشریح بیٹھ گئی۔ آپ اسلام کو ایک غلط رخ سے دیکھنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو وہ مقامات نظر ہی نہ آئے جہاں خدا کے فرشتے ترقی ایمان کی بے حساب غذائیں تقسیم کر رہے ہیں۔ اور بے حسی اور تنزل کی بیماری میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page