Urdu book · تعبیر کی غلطی

تعبیر کی غلطی

Urdu book, p. 326

By Maulana Wahiduddin Khan

مبتلا ہو کر اس بات کا شکوہ کر رہے ہیں کہ آپ کے رہنما آپ کو ایسا کوئی انقلابی پروگرام ہی نہیں دیتے جو آپ کو زندہ اور متحرک کر سکے۔ اس طرح قرآن کی دعوت کی غلط تعبیر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی پورے قرآن کو بالکل دوسرے رنگ میں دیکھنے لگے گا۔ اس کے بعد نفسیاتی طور پر ایسا ہوگا کہ قرآن کی وہی آیتیں یا آیات کی وہی تفسیر میں آپ کے ذہن کا جزء بنیں گی، جن میں آپ اپنے مخصوص تصور کی تصدیق پا رہے ہوں۔ بقیہ آیتیں یا آیات کی دوسری تشریحیں آپ کے ذہن میں ہر گز وہ جگہ حاصل نہیں کر سکتیں جن کی وہ مستحق ہیں۔ اس ذہنی صورت حال کو آپ کسی کے اندر گھس کر دیکھ تو نہیں سکتے، مگر اس کے ظاہری رویے میں یقینی طور پر اس کو محسوس کر سکتے ہیں۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جن کے سامنے دعوتِ اسلامی کے کام کو مؤثر بنانے اور اس کی مشکلوں سے نمٹنے کے لیے ایک روزانہ اخبار جاری کرنے کی تجویز ہو تو وہ بہت جلد اس کی اہمیت کے قائل ہو جائیں گے۔ وہ یہ بات بھی بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ دوسرے اخباروں کو روپیہ دے کر یا بڑی تعداد میں ان کے پرچے کی "خریداری" قبول کر کے ان سے اپنے پروپیگنڈے کا کام لیا جائے۔ حتیٰ کہ اگر بازار سے کچھ صلاحیتوں کو خرید کر انھیں استعمال کرنے کا موقع ہو تو وہ اسے بھی بڑی خوشی سے گوارا کر سکتے ہیں۔ مگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئے گی کہ "داعی بننے کے لیے نماز سے مدد لو" اور "قیام لیل کے ذریعہ اپنے آپ کو مؤثر دعوتی کام کے لیے تیار کرو"۔ ان کو قرآن کی صریح آیتیں سنائی جائیں گی ۔ مگر وہ کہیں گے " یہ تو تصوف کی بات ہے" ؀ ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ (10:15) ۔ یعنی ، اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس کو بدل دو۔ نشانے کی تبدیلی اسلام نے جو احکام دیے ہیں ، ان کا ایک مقصد یہ ہے کہ آپ کے ذہن کو کچھ مخصوص نشانوں پر لگایا جائے ۔ لیکن اگر حکم کو سمجھنے میں آپ غلطی کر جائیں یا اس کی کوئی دوسری تعبیر آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page