نشانے کی تبدیلی
Urdu book, p. 327
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ذہن میں بیٹھ جائے ، تو آپ کی مثال اس شکاری کی سی ہو جائے گی جو جانور کے سائے کو جانور سمجھ کر بندوق چلا دے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں گولی اپنا نشانہ کھو دے گی اور کارتوس خالی کرنے کے بعد بھی آپ اپنی مطلوبہ چیز سے محروم رہیں گے۔ اہل ایمان کو خارجی دنیا میں جو کام کرنا ہے۔ اس کو دعوت و شہادت کا عنوان دے کر اللہ تعالیٰ نے خدمت دین کا ایک نہایت وسیع میدان ہمارے لیے کھول دیا ہے۔ شہادت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اندر گو یائی اور افہام و تفہیم کی جو طاقت ہے، اس کو ان تمام لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچانے میں پوری طرح لگادیں، جو خدا سے غافل ہیں یا اس سے پھیرے ہوئے ہیں۔ آپ اس قدر شدت اور یقین کے ساتھ اسے پیش کریں گویا عالم بالا کے یہ حقائق آپ کے چشم دید واقعات ہیں، جن کی آپ دنیا کے سامنے گواہی دے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ آدمی کبھی یہ محسوس نہیں کرتا کہ اس کو انجام دینے کے لیے مواقع موجود نہیں ہیں۔ یہ آپ کو مشغول ترین زندگی میں لگا دیتا ہے ۔ جب تک زمین پر کوئی ایک بھی خدا کا بندہ صحیح راہ سے بھٹکا ہوا ہے۔ اور جب تک آپ کے ہاتھ میں قلم اور آپ کے منھ میں زبان ہے اس وقت تک گویا آپ کے لیے کرنے کا کام موجود ہے۔ لیکن مذکورہ بالا تشریح نے اہل ایمان کے خارجی کام کو شہادت کے بجائے ”انقلاب“ کا عنوان دے کر یہ قیمتی میدان آپ سے چھین لیا۔ شہادت و تبلیغ کے تصور کے تحت داعی کی جو انتہائی منزل قرار پاتی ہے، وہ یہ کہ خدا کے بندوں تک خدا کا پیغام پوری طرح پہنچ جائے۔ مگر اس تعبیر نے اپنی ساخت کے عین فطری نتیجے کے طور پر اپنے ذمہ یہ کام لے لیا کہ ”دنیا میں ہم جس انتہائی منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ فساق و فجار کی امامت و قیادت ختم ہو کر امت صالحہ کا نظام قائم ہو۔“ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا ذہن اس مخصوص تعبیر سے بنا ہو، وہ اپنی ذہنی ساخت کی بنا پر مجبور ہوں گے کہ سیاسی تبدیلی کو اپنا اصل نشانہ قرار دیں۔ کیوں کہ اس کے بغیر امامت صالحہ کا قیام وجود میں نہیں آسکتا۔ شہادت کا تصور ہو تو آدمی اس کو سمجھتا ہے کہ اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader