Urdu book · تعبیر کی غلطی

نشانے کی تبدیلی

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

بات آخری حد تک لوگوں کو سنا دے۔ مگر اس دوسری تعبیر نے آپ کو ایک ایسا کام بتا دیا جس کی تکمیل ، اس کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک نظام کی شکل میں بالفعل زمین پر قائم ہو جائے۔ قرآن میں ’’شہادت‘‘ اور اس کے ہم معنی الفاظ کسی کو اس غلط فہمی کی طرف لے جا سکتے تھے کہ محض زبانی گواہی بھی اس کام کی ادائیگی کے لیے کافی ہے۔ مگر آپ نے ’’عملی شہادت‘‘ کا فلسفہ ایجاد کر کے اسے مطمئن کر دیا کہ جب تک باقاعدہ اسٹیٹ وجود میں نہ آئے، شہادت کی ذمے داری ادا نہیں ہو سکتی۔ جو لوگ اس ذہنیت میں مبتلا ہوں، فطری طور پر وہ اپنی قوتوں کے استعمال کے لیے سیاسی پروگرام تلاش کریں گے۔ وہ ’’کام‘‘ اس کو سمجھیں گے کہ حکومت بدلنے کی جدوجہد ہو رہی ہو۔ محض تبلیغ و تفہیم ان کے نزدیک وہ کام نہ ہوگا، جو خارجی دنیا میں انھیں اپنی ایمانی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے انجام دینا ہے۔ اب اگر انقلاب کے لیے حالات سازگار ہوں اور ایک ایسا کامیاب سیاسی پروگرام مل جائے جو انھیں اقتدار کی تبدیلی کی طرف لے جاتا ہوا نظر آئے، تو وہ حرکت کریں گے، وہ محسوس کریں گے کہ ان کے پاس وہ کام موجود ہے، جس کے لیے انھیں اپنی کوشش صرف کرنی چاہیے۔ لیکن اگر سیاسی حالات سازگار نہ ہوں اور ایسا کوئی راستہ وہ نہ پاسکیں جس کے دوسرے سرے پر پارلیمنٹ کے دروازے کھلے ہوئے نظر آتے ہوں، تو ان کی سمجھ میں نہ آئے گا کہ وہ کیا کریں۔ ان کے چاروں طرف کروڑوں کی تعداد میں گمراہ انسانوں کی موجودگی بتا رہی ہوگی کہ ان کا پروگرام کیا ہے۔ لیکن اگر سیاسی تبدیلی کے مواقع نہ ہوں ۔ اور اس قسم کا کوئی عملی نقشہ وہ نہ پاسکیں جس میں ان کی انقلابی تمناؤں کی تسکین موجود ہو، تو وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس تو کوئی پروگرام ہی نہیں۔ عین کاموں کے ہجوم میں وہ اپنے آپ کو پروگرام کے بغیر محسوس کریں گے۔ بتانے والے انھیں ان کا دعوتی فریضہ یاد دلائیں گے۔ مگر ایسے کاموں کے لیے ان کے اندر کوئی کشش نہ ہوگی۔ ان کی سمجھ میں نہ آئے گا کہ محض دعوت کا پہنچانا بھی کوئی ایسا کام ہے جس میں وہ اپنی قوتیں صرف کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page