نشانے کی تبدیلی
Urdu book, p. 329
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں یہ یاد رہے کہ اس تعبیر پر میرا اعتراض دراصل یہ نہیں ہے کہ اس نے سیاست کو اسلام میں کیوں شامل کر دیا۔ سیاست زندگی کا ایک لازمی جزء ہے اور کوئی نظریہ جو انسانی زندگی سے متعلق ہو وہ سیاست سے خالی نہیں ہو سکتا۔ مجھے اس سے بھی اختلاف نہیں ہے کہ کسی مخصوص وقت میں کوئی اسلامی گروہ، سیاست پر کتنی قوت صرف کرے ۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک ہنگامی مرحلے میں کسی اسلامی گروہ کو اپنی بیشتر یا ساری قوت سیاسی تبدیلی کے محاذ پر لگا دینی پڑے۔ میرا اعتراض دراصل یہ ہے کہ سیاست جو صرف اسلام کا ایک پہلو ہے، اسی کی بنیاد پر پورے اسلام کی تشریح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک چیز اپنی صحیح حیثیت میں حقیقت ہو سکتی ہے ۔ لیکن اس کو صحیح مقام سے ہٹا دیا جائے تو ایک صحیح چیز بھی غلط ہو کر رہ جائے گی ۔ پھر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر چہ کچھ دنوں تک اپنے جذبات کا مرکز نہ پائے تو بالآخر وہ سرد مہری کا شکار ہونے لگتا ہے۔ جس چیز کو آدمی اپنا نشانہ بنائے اس کا سامنے رہنا بہت ضروری ہے۔ اگر وہ نگاہوں سے اوجھل ہو جائے تو کوئی شخص اپنے آپ کو مایوسی سے نہیں بچا سکتا۔ اس طرح آپ کی ”ناکام“ اسلامی تحریک کے افراد پہلے حالات کی ناسازگاری کو دیکھ کر مایوس ہوں گے ۔ مایوسی سے انتشار تک پہنچیں گے ۔ اور انتشار کے بعد بے کرداری کی منزل بہت قریب ہے۔ اسی طرح أَقِيمُوا الدِّينَ کے الفاظ میں جو حکم دیا گیا ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم کو ان تقاضوں اور ذمے داریوں کی طرف متوجہ کیا جائے، جو اپنی ذات کے سلسلے میں خدا کی طرف سے ہمارے اوپر عائد ہوتی ہیں۔ لیکن اگر اس آیت کا وہ مفہوم آپ کے ذہن میں بیٹھا ہوا ہو، جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے، تو اس کا بالکل قدرتی نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ کے ذہن میں اس حکم کا نشانہ بدل جائے گا۔ اب اپنی ذات کے بجائے خارج کی دنیا وہ جگہ ہو گی، جہاں آپ أَقِيمُوا الدِّينَ کے حکم کی تعمیل کرنا چاہیں گے ۔ آپ اپنی زندگی کو بدلنے کے بجائے نظام بدلنے پر اپنی ساری نظریں جما دیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader