نشانے کی تبدیلی
Urdu book, p. 330
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ سے غافل ہوں گے۔ مگر مسائل عالم کے موضوع پر گفتگو کرنے سے ان کی زبان کبھی نہیں تھکے گی ۔ نماز کی ”اقامت“ سے انھیں کچھ زیادہ دلچسپی نہ ہوگی۔ مگر وہ حکومت الہیہ قائم کرنے کا نعرہ بلند کریں گے ۔ ان کی اپنی زندگی میں زبردست خلا ہوں گے۔ مگر وہ عالمی نظام کے خلا کو پر کرنے کی باتیں کریں گے۔ ان کا گھر جہاں وہ آج بھی قوّام کی حیثیت رکھتے ہیں، اس میں اپنی بساط بھر عام دنیا پرستوں کے گھر کی تقلید ہو رہی ہوگی۔ مگر ملک کے اندر وہ قوّام کی حیثیت حاصل کرنے کی تحریک چلائیں گے، تاکہ ملک کو دنیا پرست لیڈروں کے اثرات سے پاک کر سکیں۔ ان کا سینہ خدا کی یاد سے خالی ہوگا۔ مگر وہ اقتدار حاصل کر کے براڈ کاسٹنگ اسٹیشن پر قبضہ کرنے کی تجویز پیش کریں گے ۔ تاکہ دنیا بھر میں خدا پرستی کا چرچا کیا جا سکے ۔ اپنی ذاتی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے جن اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، ان پر عمل کرنے میں وہ ناکام رہیں گے ۔ مگر ملکی نظام سے لے کر اقوام متحدہ کی تنظیم تک کی اصلاح کے لیے ان کے پاس درجنوں اصول موجود ہوں گے۔ اس کے کاغذی نقشے اور اخباری بیانات دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ ملت اسلام کا انھیں کس قدر درد ہے کہ کسی مسئلے کا دور قریب کا رشتہ بھی اگر ملت کے ساتھ ثابت ہو جائے تو وہ اس کو حل کرنے کے لیے بے قرار ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان کے قریب جا کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ ان کے اس اظہار غم کی حیثیت رسمی تعزیت سے زیادہ نہیں ہے، جو مرنے والے کے غم میں نہیں بلکہ صرف اس اندیشے سے کی جاتی ہے کہ زندہ رہنے والوں کو شکایت ہوگی۔ اپنے آج کے حاصل شدہ دائرے میں وہ نہایت سطحی اور غیر ذمہ دارانہ زندگی گزار رہے ہوں گے، مگر اپنی انقلابی تحریک کی کامیابی کے بعد انھیں کام کا جو وسیع تر دائرہ حاصل ہوگا، اس کا نقشہ اس طرح پیش کریں گے گویا خلافت راشدہ از سر نو دنیا میں لوٹ آئے گی۔ دیکھیے، آپ کی غلط تشریح نے کس طرح آپ کے عمل کے نشانے بدل دیے ۔ قرآن میں ہم کو جو نشانہ دیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ اپنے اوپر خدا کے دین کو قائم کرو اور دوسروں تک اس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader