Urdu book · تعبیر کی غلطی

تعبیر کی غلطی

Urdu book, p. 331

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغام پہنچاؤ۔ مگر اس تشریح نے اس کے بجائے ایک اور نشانہ آپ کے سامنے کر دیا۔” دنیا میں اسلامی نظام برپا کرنے کی جد و جہد کرو۔“ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نگاہیں ان دونوں نشانوں سے ہٹ گئیں ۔ اب نہ خود عمل کرنے کی فکر رہی اور نہ پہنچانے کی دھن پیدا ہوئی۔ اب ساری توجہ اس ایک مسئلے پر لگ گئی کہ کسی طرح اقتدار بدلنے کی کوئی تدبیر ہاتھ آئے تا کہ اسلامی قوانین کو نافذ کیا جا سکے۔ جس طرح کمیونسٹ پارٹی کا مشن اپنے کارکنوں کو یہ نشانہ نہیں دیتا کہ وہ اپنی زندگیوں کو بدلیں ۔ اور نہ صرف بات پہنچانا ان کے نزدیک کوئی ایسا کام ہے، جس کے لیے وہ متحرک ہوں ۔ بلکہ ان کا ذہن ہمیشہ اقتدار پر قبضہ کرنے کی تدبیریں، سوچتا رہتا ہے۔ ٹھیک یہی نفسیات اسلام کی اس تعبیر نے اپنے متاثر ہونے والوں میں پیدا کر دی۔ مخاطبین پر اثر اس تعبیر سے جو لوگ متاثر ہوتے ہیں ان کے ذہن میں اسلام ایک طرح کے سیاسی اور سماجی نظام کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخاطبین کو ٹھیک اسی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں، جس نظر سے دنیا کی عام سیاسی اور سماجی تحریکیں اپنے مخاطبین کو دیکھتی ہیں۔ ان کو ہدایت خلق سے زیادہ ”رائے عامہ ہموار کرنے“ کی فکر ہو جاتی ہے، تا کہ موجودہ جمہوری دور میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ووٹ مل سکے۔ مسلمان اور غیر مسلم دونوں کی حیثیت ان کی نظر میں بدل جاتی ہے۔ یہاں میں پالیسی ( مطبوعہ 1959 ء ) کا ایک فقرہ نقل کروں گا: ” دعوت قرآنی کے ایک عالمگیر دعوت ہونے کے باعث اس کا مخاطب بلا امتیاز قوم وملت ہر شخص ہے اس لیے جب کہ ہمارے ملک میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہی قسم کی ملتیں پائی جاتی ہیں۔ ہماری تحریک دونوں ہی قسم کے لوگوں کو اپنا مخاطب قرار دے گی ۔ مفاد تحریک کے لحاظ سے بھی دونوں میں سے ہر ایک کی ایک مخصوص اہمیت ہے جو دوسرے کو حاصل نہیں ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page