Urdu book · تعبیر کی غلطی

مخاطبین پر اثر

Urdu book, p. 332

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم گروہ کی اہمیت یہ ہے کہ قیاسًا تحریک کو اسی گروہ میں سے کارکن مل سکتے ہیں۔ اور تجربہ بتامل رہے ہیں۔ اس لیے عملاً ہمارا میدانِ کار یہی گروہ ہے۔ غیر مسلم گروہ کی اہمیت یہ ہے کہ اس وقت ملک میں نہ صرف وہ بہت بڑی اکثریت میں ہے بلکہ علمی سماجی اور معاشی حیثیت سے کہیں فائق تر اور سیاسی حیثیت سے صاحبِ اقتدار ہے اس لیے کسی تحریک کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ملک کے ایسی اکثریت والے گروہ سے کسی طرح صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اس اقتباس پر غور کیجیے۔ اس کی پہلی کھلی ہوئی غلطی یہ ہے کہ اس کو مسلم اور غیر مسلم دونوں ایک سطح پر نظر آتے ہیں۔ اس کے ذہن میں امتِ مسلمہ کی مخصوص حیثیت باقی نہیں رہی۔ وہ مسلمانوں کو بھی اسی نظر سے دیکھتی ہے، جیسے دنیا کے دوسرے لوگوں کو۔ مسلم گروہ کی مزید کوئی اہمیت اگر اس ذہن میں آتی ہے تو وہ کسی دینی اور شرعی حیثیت کی بنا پر نہیں، بلکہ اس لیے کہ مفاد تحریک کے لحاظ سے بھی اس کی ایک مخصوص اہمیت ہے، اور وہ یہ کہ قیاسًا تحریک کو اسی گروہ میں سے کارکن مل سکتے ہیں، اور تجربہ بتامل رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مسلمانوں کے ساتھ اس فکر کو اگر کوئی خاص دل چسپی ہے تو یہ بالکل ویسی ہی ہے جیسے کسی ملک کی وزارت دفاع کو اپنے بھرتی کے علاقے (recruiting area) سے ہوتی ہے۔ ملتِ اسلامی کا وجود ان کے ذہن میں کسی ذمے داری کا تصور پیدا نہیں کرتا۔ بلکہ وہ ان کے لیے ایک طرح کا کچا مال ہے، جس سے آدمی لے لے کر وہ اس کو اپنی تحریک کا” کارکن“ بنا سکتے ہیں۔ ایسے لوگ قدرتی طور پر مسلمانوں کے پیشِ نظر کوئی اصلاحی پروگرام بنانا صحیح نہ سمجھیں گے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک یہ اسلام کی عالمی انقلابی حیثیت کے خلاف ہوگا۔ اس سے اسلام کا ”جہانی نظریہ“ ہونا لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہو جائے گا۔ حتیٰ کہ یہ ذہنیت اس حد تک بڑھے گی کہ شدید ترین حالات میں اگر ان میں سے کچھ کمزور دل لوگوں کو امت مرحومہ کی زبوں حالی پر رحم آجائے گا۔ اور وہ جماعت کی پالیسی میں ”ملی مسائل“ کا اضافہ کرنا چاہیں گے تو اس کے اندر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page