مخاطبین پر اثر
Urdu book, p. 333
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسے لوگوں کو فوراً قوم پرستی کی بو محسوس ہونے لگے گی۔ وہ شدید احتجاج کریں گے کہ یہ اسلام کی اصولی حیثیت کے منافی ہے کہ ایک مخصوص گروہ کے پیش نظر کوئی پروگرام بنایا جائے۔ یہی حال غیر مسلموں کا ہوا۔ جو لوگ ایمان نہیں لائے اور ابھی تک کفر و شرک کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں، ان سے ہمارے تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان حق کے گواہ ہیں۔ آخرت کی جن حقیقتوں سے غافل ہو کر وہ ہلاکت کی طرف جا رہے ہیں، اس سے ان کو ہمیں آگاہ کرنا ہے۔ قیامت کے آنے والے خطرے سے ہوشیار کرنے کے لیے ہمیں ان کے سامنے "نذیر عرياں‘‘ بن جانا ہے۔ مگر غلبہ حاصل کرنے کو اصل اسلامی نصب العين قرار دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بارے میں آپ کو یہ بے چینی نہیں ہوئی کہ ان کو آنے والے خوفناک دن سے بچائیں۔ بلکہ ان کا خیال آپ کے ذہن میں آیا تو اس پہلو سے آیا کہ ”اپنی تحریک کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ملک کی اکثریت والے گروہ سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ اسی کا نتیجہ ہے کہ غیر مسلموں کی اصل حیثیت اس تعبیر کے ذہن میں مدھم پڑ گئی ۔ اس کو یہ فکر نہیں ہوئی کہ انھیں آگ کے خطرے سے نکالیں ۔ اس کے بجائے یہ ذہن انھیں اس نظر سے دیکھنے لگا کہ کسی طرح ان کی ’’رائے‘‘ کو اپنے حق میں ’’ہموار‘‘ کر لے تا کہ ان کا ووٹ کسی اور کو ملنے کے بجاے ہم کو مل جائے۔ اس سلسلے میں دستور کی دفعہ 5 کا یہ فقرہ نہایت عبرت انگیز ہے: ”جماعت اپنے نصب العین کے حصول کے لیے تعمیری اور پر امن طریقے اختیار کرے گی۔ یعنی وہ تبلیغ و تلقین اور اشاعت افکار کے ذریعہ ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح کرے گی اور اس طرح ملک کی اجتماعی زندگی میں مطلوبہ صالح انقلاب لانے کے لیے رائے عامہ کی تربیت کرے گی۔‘‘ دیکھیے غیر مسلم جو اصلاً ہمارے لیے انذار یوم التلاق (آخرت کے دن سے آگاہ کرنے) کا موضوع ہیں ، وہ اس تعبیر کے خانے میں بس رائے عامہ ہموار کرنے کا موضوع بن کر رہ گئے۔ گویا اگر وہ بیلٹ بکس کی حد تک ہماری موافقت میں ہو جائیں تو ان کے بارے میں اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader