Urdu book · تعبیر کی غلطی

تعبیر کی غلطی

Urdu book, p. 334

By Maulana Wahiduddin Khan

آگے ہمیں کچھ اور سوچنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ "اجتماعی زندگی" میں صالح انقلاب لانے کے لیے اتناہی کافی ہے۔ سیاسی انتہا پسندی پنڈت نہرو نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ جب وہ کیمبرج میں تعلیم حاصل کر رہے تھے انھیں خیال ہوا کہ یہاں سے فارغ ہو کر انڈین سول سروس میں جانے کی کوشش کریں گے۔ کیوں کہ اس زمانے میں ایک ہندوستانی کے لیے یہ بڑی چیز تھی۔ مگر کچھ دنوں بعد جب ان کے آزاد در جہانات کافی بڑھ چکے تھے، انھیں اپنے اس خیال پر کراہت ہونے لگی۔ کیوں کہ ان کے الفاظ میں انڈین سول سروس میں شرکت دراصل برطانوی حکومت کی انتظامی مشین کا ایک پرزہ (Cog) بننے کے ہم معنی تھا۔ اور جس شخص نے اپنی زندگی کا مشن یہ قرار دیا ہو کہ انگریزی حکومت کو اپنے ملک سے ختم کرنا ہے، وہ اسی حکومت کا کارندہ کس طرح بن سکتا ہے۔ (آٹو بائیو گرافی، لندن، 1936ء، صفحہ 25-24) سیاسی فکر کے نزدیک ہمیشہ یہ سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے اور اس قسم کے تمام نظریات میں اس کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ چنانچہ زیر بحث تعبیر میں بھی یہ چیز شدت سے ابھر آئی۔ اس تعبیر کے مطابق اسلامی مشن کا جو تصور سامنے آتا ہے وہ ہے "نظام بدلنا"۔ میں مانتا ہوں کہ اسلامی جد و جہد کے مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ بھی ہے، مگر اس تعبیر نے اس کو اس کے واقعی مقام سے ہٹا دیا۔ اور اس طرح دوسری شکل میں وہی خرابیاں پیدا ہو گئیں، جو "دنیا سے بے رغبتی" کی اسلامی قدر کو اس کے واقعی مقام سے ہٹانے کی وجہ سے مختلف مذاہب میں پیدا ہوئیں۔ رہبانیت کے فلسفے نے روحانی انتہا پسندی میں پڑ کر خدا کے بندوں کو بہت سی غیر ضروری مشقتوں میں ڈال دیا تھا۔ اسی طرح اس جدید انقلابی نظریہ نے سیاسی انتہا پسندی میں پڑ کر خدا کے بندوں کو ایسی مشکلات میں گرفتار کر دیا، جس کے لیے دراصل خدا نے انھیں مکلف نہیں کیا تھا۔ اس کی واضح مثال موجودہ غیر الہی نظام کے تحت قائم شدہ اداروں کی ملازمت کا مسئلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page