تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 335
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، جس کو اس تعبیر نے ”کسب حرام“ قرار دیا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے نزدیک اس نظام اطاعت کے ایک جزء اور دوسرے جزء میں کوئی فرق نہیں۔ اس کے جو اجزاء بظاہر بالکل معصوم نظر آتے ہیں۔ وہ بھی اسی قدر ناپاک ہیں، جس قدر دوسرے ”غیر معصوم اجزاء“۔ نیز جو غیر الہی نظام اطاعت مسلمانوں کی خداوندی میں چل رہا ہے، وہ بھی اپنے تمام اجزاء سمیت اسی حکم میں ہے۔ مسلمانوں کی خداوندی اس کو ہرگز سند طہارت عطا نہیں کرتی۔“ جس طرح رہبانیت کے فلسفہ سے متاثر ہو کر بے شمار لوگوں نے اپنے آپ کو طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کر لیا۔ اسی طرح اس جدید نظریہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ کتنے لوگوں نے حرام سمجھ کر سرکاری ملازمتیں چھوڑ دیں۔ حتیٰ کہ اسکول کے ماسٹروں اور ریل اور ڈاک خانے کے کلرکوں تک نے استعفیٰ دے دیا۔ اور اس طرح اپنے آپ کو اور اپنے اہل خاندان کو خواہ مخواہ ایسی مشکلات میں مبتلا کر دیا، جس کا خدا نے انھیں مکلف نہیں کیا تھا۔ اس واقعہ کا اس سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غیر فطری عمل کی وجہ سے بیشتر لوگ آخر وقت تک اس پر قائم نہ رہ سکے۔ اور بالآخر حالات سے مجبور ہو کر یا تو کسی تاویل کے ذریعہ اسی طرف لوٹ گئے جس کو انہوں نے حرام سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ یا پھر حالات نے انھیں ایسے ذریعہ معاش تک پہنچا دیا جو سرکاری ملازمت سے بھی بدتر تھا۔ غلبہ دین کی غلط تشریح قرآن میں غلبہ کے معاملے کو ہر جگہ خدا کی نصرت کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غلبہ اپنے آپ کسی کے اوپر ٹپک پڑتا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں وہی غالب ہوتا ہے جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے غلبہ کا فیصلہ کیا ہو۔ ہمارا اصل کام یہ نہیں ہے کہ غلبہ کو نشانہ بنا کر اول روز سے براہ راست اس کے لیے تحریک چلائیں۔ بلکہ اصل کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو نصرت الہیٰ کا مستحق بنانے کی کوشش کریں۔ جب ہم استحقاق پیدا کر دیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے لیے راہیں کھولے گا۔ ہمارے لیے نفوذ کی صورتیں پیدا کرے گا جیسے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader