غلبہ دین کی غلط تشریح
Urdu book, p. 336
By Maulana Wahiduddin Khan
نے حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے، ایک مخصوص شکل میں اور آخری رسول کے لیے دوسری مخصوص شکل میں صورتیں پیدا فرمائیں۔ یہ استحقاق کیسے حاصل ہوتا ہے ۔ اس کو قرآن میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورہ مائدہ (آیت 12) میں مخصوص حالات میں بسنے والے اہل ایمان کے لیے ایک سواء سبیل (واضح راستہ) بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان منظم زندگی گزاریں۔ نماز کو قائم کریں (جس کی روح عجز اور اشتیاق کے ساتھ اپنے رب سے جڑ جانا ہے)، زکوۃ ادا کریں (جو گویا حرص اور خود غرضی سے اپنے آپ کو پاک کرکے ایک مزکی انسان بن جانے کا نام ہے) پھر رسولوں پر ایمان لانا اور ان کی تعزیر کرنا ہے، جو موجودہ زمانے میں یہ معنی رکھتا ہے کہ مقصد رسالت کے لیے جو دعوتی تحریکیں اٹھیں، ان کا پوری طرح ساتھ دیا جائے۔ اس راہ میں جو مزاحمتیں پیش آئیں، ان کا مقابلہ کرتے ہوئے اس دعوتی مہم کو جاری رکھا جائے۔ اور آخری چیز خدا کو قرض حسن دینا ہے۔ یعنی خدا کی راہ میں عمدہ جذبات کے ساتھ اپنے بہترین مال کو خرچ کرنا۔ یہ وہ سواء السبیل (واضح راستہ) ہے جس پر چلنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے ائی محکم کی بشارت دی ہے۔ یعنی وہ دنیا کی زندگی میں ان کا ساتھ دے گا ان کی مدد فرمائے گا۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو اس قسم کی آیتوں سے آدمی کو کوئی غذا نہیں ملے گی، اس کی توجہ اس طرح کی سواء السبیل پر لگنے کے بجائے بس سیاسی تبدیلی کی طرف لگی رہے گی۔ وہ جب بھی غلبہ اسلام کے سوال پر سوچے گا۔ ایک سیاسی مسئلے کے طور پر سوچے گا۔ خدا کی نصرت کی طرف اس کا دھیان نہیں جائے گا۔ اور نہ اس کی مجلسوں میں اس انداز کی گفتگو ہوگی۔ وہ صرف ”عملی پروگراموں“ اور ”سیاسی تدبیروں“ کے چکر میں پڑا رہے گا۔ مگر بعد کو جب اس کی کوششیں اس واقعہ کو ظہور میں نہ لاسکیں گی، جو دراصل خدا کی مدد سے ظہور میں آتا ہے تو اس ذہنیت کے لوگ مایوسی اور انتشار میں مبتلا ہو کر دین کے اتنے حصے کو بھی چھوڑ بیٹھیں گے، جس کو وہ اجتماعی انقلاب کے بغیر حاصل کرسکتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader