نظریاتی دینداری
Urdu book, p. 337
By Maulana Wahiduddin Khan
نظریاتی دینداری عام مسلمانوں میں دین جس محدود اور بے روح شکل میں پایا جاتا ہے۔ اس کو یہ تعبیر رسمی دینداری کہتی ہے۔ مجھے اس تنقید سے اتفاق ہے۔ مگر خود اس تعبیر نے جو ذہن پیدا کیا، وہ بھی صحیح اسلامی ذہن نہیں ہے۔ اس کا کارنامہ صرف یہ ہے کہ اس نے رسمی دینداری کی جگہ ایک قسم کی نظریاتی دینداری پیدا کردی۔ حالانکہ دین سے تعلق کی اصل روح دلسوزی اور گھلاوٹ ہے۔ مگر یہ چیز نہ یہاں موجود ہے اور نہ وہاں موجود۔ اس تعبیر نے اسلام کا جو تصور پیش کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ "اسلام ایک ہمہ گیر انقلابی نظریہ ہے جو ساری دنیا کے نظریات کو بدل کر اپنے نظریہ کے مطابق تعمیر کرنا چاہتا ہے"۔ یہ بات کلیتاً غلط نہیں ہے۔ مگر اس تعبیر نے اسی چیز کو اسلام کی اصل حیثیت قرار دے دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام بس ایک طرح کا نظریاتی تصور بن کر رہ گیا۔ اور اس کے اندر وہی خرابیاں پیدا ہو گئیں، جو اس طرح کے دوسرے نظریات میں ہم دیکھتے ہیں۔ دنیا کے تمام انقلابی نظریات محض کچھ الفاظ کے مجموعے ہیں۔ ان کے پیچھے کوئی نفسیاتی بنیاد موجود نہیں۔ اس لیے وہ کاغذ پر تو خوب زیر بحث آتے ہیں۔ اور زبانوں پر بھی ان کا بڑا چرچار ہتا ہے۔ مگر وہ آدمی کی روح کو نہیں چھوتے، وہ اس کی فطرت کا جز نہیں بنتے۔ اور اس کے اندرونی وجود کو متاثر نہیں کرتے۔ اسی طرح اسلام کو جب دوسرے نظریات کے مقابلے میں ایک نظریہ کی حیثیت دی گئی تو وہ بھی اپنے حریفوں کی مانند بس ایک قسم کا "نظریہ" بن کر رہ گیا۔ جو اپنے افراد کو نظریاتی بحثیں تو دیتا ہے، مگر ان کے اندرون کو نہیں جگاتا۔ ان کے اندر نفسیاتی وابستگی پیدا نہیں کرتا۔ وہ ان کو قربت الہی کی حقیقت سے آشنا نہیں کرتا جو اس دنیا میں کسی بندہ خدا کا سب سے بڑا حاصل ہے۔ اس تشریح کا نقصان یہیں نہیں رکتا، بلکہ اور آگے بڑھ کر وہ ایسی صورت اختیار کرلیتا ہے، جہاں نہ حقیقت باقی رہتی ہے اور نہ نظریہ۔ حقیقت سے ہٹ کر کسی چیز کی جو تشریح کی جائے وہ صرف ایک لفظی مجموعہ ہوتا ہے، وہ کبھی انسان کی فطرت میں جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader