تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 338
By Maulana Wahiduddin Khan
کی زیر بحث تشریح کو جو لوگ اپناتے ہیں، وہ ابتداء تو ان کی زندگی میں کچھ جوش وخروش دکھاتی ہے۔ مگر وہ کسی گہرے عمل کا محرک نہیں بنتی۔ اور بالآخر ایک بے جان نظریے کی طرح اس کی ذہنی سطح پر جا کر ٹھر جاتی ہے۔ آدمی اس کے بعد بھی دیندار بنا رہتا ہے۔ مگر اب اس کی دینداری اس کے فکری سرچشمہ سے نکلی ہوئی دینداری نہیں ہوتی۔ بلکہ محض ان پیدائشی اثرات کا نتیجہ ہوتی ہے، جو اتفاق سے اس کے اندر پہلے سے موجود تھے، اور فکری تعلق ٹوٹنے کے بعد اس کا سہارا بن گئے۔ اس دینداری کی مثال بالکل ایسی ہے، جیسے کوئی پتی اپنی جڑ چھوڑنے کے بعد نیچے کی شاخوں میں اٹک کر رہ گئی ہو۔ بظاہر وہ درخت پر ہے۔ مگر حقیقتاً وہ اس سے الگ ہو چکی ہے۔ اب اس کا کوئی وجود نہیں۔ حقیقت سے انحراف آدمی کو صرف حقیقت سے محروم نہیں کرتا۔ بلکہ اس دوسری چیز سے بھی محروم کر دیتا ہے، جس کے لیے اس نے حقیقت کو چھوڑا تھا۔ کیوں کہ اس کائنات میں ایک ہی سر چشمہ ہے، جس سے تمام چیزیں نکلتی ہیں اس سے تعلق ٹوٹنے کے بعد کسی بھی چیز کا کوئی وجود نہیں۔ اصل کام کے بجائے دوسرے کام آج کل جماعت اسلامی کے رہنما بظاہر ملی معاملات میں کافی پیش پیش نظر آرہے ہیں۔ تعلیمی کانفرنسوں میں شرکت ، مسلم کنونشن کی تجاویز ، فسادات کے مواقع پر ریلیف کا کام، مسلمانوں کا انگریزی اخبار نکالنے کی کوشش ، ملکی اور عالمی مسائل پر بیانات اور ”انٹرویو“۔ مگر یہ حقیقتاً کسی فکری سرچشمہ سے نکلی ہوئی چیز نہیں ہے۔ اس کے اسباب کچھ اور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سرگرمیوں میں وہ حقیقی روح نہیں پائی جاتی ، جو خدمت دین کے کاموں میں فی الواقع ہونی چاہیے ۔ 1۔ جماعت اسلامی کی تاریخ میں یہ نیا رجحان پیدا ہونے کی پہلی اور خاص وجہ یہ ہے کہ جماعت کا جو فکر ہے ، اس کے مطابق اس کا ذہن قدرتی طور پر ”سیاسی“ قسم کے کام تلاش کرتا ہے۔ تقسیم ملک کے بعد پاکستان کے مخصوص حالات کی بنا پر وہاں کی جماعت کو ایسے کام مل گئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader