اصل کام کے بجائے دوسرے کام
Urdu book, p. 339
By Maulana Wahiduddin Khan
اور وہ اس کے سہارے کھڑی ہوگئی۔ مگر ہندوستان کے حالات مختلف تھے۔ اس لیے یہاں ایسا کوئی کام نکل نہ سکا۔ یہ چیز ہندوستان میں تحریک کے افراد کو جمود اور سرد مہری میں مبتلا کر رہی تھی۔ پہلے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ”تعمیر ذہن اور تزکیہ قلب“ کی مہم شروع کی گئی۔ اور جماعت کی پالیسی میں طے کیا گیا کہ داخلی تربیت کے محاذ پر ”ہماری سب سے زیادہ قوت اصولاً تو صرف ہونی ہی چاہیے۔ لیکن جماعت کے موجودہ حالات نے اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھادی ہے۔“ چنانچہ ”تحریک اور جماعت سے تعلق رکھنے والے مسائل“ کی تین تقسیموں میں سے داخلی مسائل پر سب سے زیادہ یعنی ”عام حالات میں بحیثیت مجموعی کم از کم نصف قوت“ صرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اور سارے ملک میں ایک مقررہ پروگرام کے مطابق تربیت و تزکیہ کا کام شروع ہو گیا۔ مگر تھوڑے ہی دنوں کے تجربہ کے بعد محسوس ہونے لگا کہ اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں۔ افراد جماعت کے جس داخلی زوال کو روکنے کے لیے اسے شروع کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس دوران میں جماعت کے اندر بہت سے لوگ شدت سے یہ بات پیش کر رہے تھے کہ جماعت نے تربیت کا جو طریقہ اختیار کیا ہے، وہ خانقاہی تربیت کا طریقہ ہے۔ اس سے جماعت کے اندر کوئی زندگی پیدا ہونے والی نہیں ہے۔ یہ شیر کو گھاس کھلا کر موٹا کرنے کی کوشش ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جماعت کے اندر زندگی پیدا کرنے کی صحیح صورت یہ ہے کہ انقلابی انداز میں کوئی عملی پروگرام بنایا جائے۔ یہ ایک انقلابی جماعت ہے، اس لیے انقلابی پروگرام ہی سے اسے غذا مل سکتی ہے۔ پہلے فکر کی ناکامی کے اندر سے یہ دوسرا فکر دھیرے دھیرے ابھر رہا تھا۔ جماعت کے بعض رہنما جو اس فکر سے کچھ زیادہ متفق نہیں ہیں، مگر حالات نے انھیں جس رعیت کا راعی بنایا ہے، اس کے مخصوص ذہن کے پیش نظر انھیں بھی کوئی دوسری تدبیر نظر نہیں آتی۔ بالآخر اس چیز نے جماعت کو عملی اور ہنگامی کاموں کی طرف موڑ دیا۔ ملک کی عمومی سیاست میں تو اس کے لیے اس طرح کے کام کا موقع نہیں تھا۔ البتہ مسلم سیاست کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader