Urdu book · تعبیر کی غلطی

اصل کام کے بجائے دوسرے کام

Urdu book, p. 340

By Maulana Wahiduddin Khan

میدان میں جماعت نے کچھ ایسے ”عملی کام“ ڈھونڈ لیے ہیں جن کے سہارے تحریک کے افراد کو زندہ رکھا جاسکے۔ چنانچہ جو کام سابق تربیتی پروگرام سے نہ ہوسکا تھا۔ وہ اب کچھ ہوتا ہوا نظر آنے لگا ہے۔ جب سے اس قسم کے مخصوص ”عملی کام“ شروع ہوئے ہیں جماعت کے اندر زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس کے رہنماؤں میں بھی ایک نیا اعتماد پیدا ہو گیا ہے۔ مگر اس نئی زندگی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جماعت کے افراد کے تعلق باللہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کی نمازیں پہلے کے مقابلے میں بہتر ہونے لگی ہیں، وہ اپنے رب کی طرف زیادہ راغب ہو گئے ہیں۔ بلکہ یہ صرف ایک تحریکی زندگی ہے۔ اور اسی لیے لازمی طور پر ترقی بھی۔ مجھے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اس سستے نسخہ کو پا کر جو رہنما آج خوش ہو رہے ہیں، ان کو زیادہ دیر تک خوشی منانے کا موقع نہیں ملے گا۔ حالات کا ایک ذرا سا پلٹا اس سارے گھروندے کو الٹ کر رکھ دے گا، اور اس وقت وہ دیکھیں گے کہ جس داخلی زوال کو انہوں نے عارضی پردوں میں چھپایا تھا، وہ پہلے سے زیادہ بھیانک شکل میں اس کے نیچے موجود ہے۔ 2۔ اسی کے ساتھ اس کی دوسری وجہ جو بظاہر غیر شعوری طور پر جماعت کی زندگی میں داخل ہو گئی ہے، یہ ہے کہ جماعت وہ کام نہیں کرسکی جس کو انجام دینا اس نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ اس لیے ناکامی کے احساس نے اپنی نفسیاتی تسکین کے لیے کچھ آسان کام ڈھونڈ نکالے ہیں۔ تقسیم کے بعد جماعت نے ایک متعین لائحہ عمل اپنے لیے بنایا تھا۔ جس کے چار اجزاء تھے ؀ قومی کشمکش کا خاتمہ، مسلمانوں کے اندر وسیع پیمانے پر علم دین کی اشاعت اور ان کی اخلاقی، تمدنی اور معاشرتی زندگی کی اس حد تک اصلاح کہ ان کے ہمسایہ غیرمسلموں کو اپنی سوسائٹی کی نسبت ان کی سوسائٹی صریحاً بہتر محسوس ہونے لگے۔ ”ملک کی ذہنی طاقت کا زیادہ سے زیادہ حصہ اپنے گرد اکٹھا کرنا۔ اور تمام کارکنوں کا ملک کی مقامی زبانوں میں ”تحریر و تقریر کی قابلیت“ بہم پہنچانا اور ان میں اسلام کا ضروری لٹریچر منتقل کرنا۔ اپریل 1947ء کے اجتماعِ مدراس میں یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page