اصل کام کے بجائے دوسرے کام
Urdu book, p. 341
By Maulana Wahiduddin Khan
لائحہ عمل منظور کرتے ہوئے جماعت کے کارکنوں سے کہا گیا تھا کہ آئندہ پانچ سال میں آپ کو یہ کام کر لینے ہیں : ” آپ کی مٹھی بھر جماعت کو آئندہ پانچ سال میں بہت بڑا کام کرنا ہے ۔۔۔ اتنا بڑا کام جو پہاڑ کھود کرجوئے شیرلانے سے کم نہیں ہے ۔۔۔ آپ کو مسلمانوں کی رائے عام اور اس کے قومی رویے کا رخ بدلنا ہے۔ آپ کو عامۂ مسلمین کی اعتقادی، اخلاقی، اور تمدنی اصلاح کرنی ہے۔ آپ کو مسلمانوں کے اہل دماغ طبقے میں نفوذ کرنا اور اسے ذہنی و عملی انتشار سے بچا کر اسلامی انقلاب کی راہ پر لگانا ہے۔ آپ کو ملک کے مختلف حصوں کی زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی اشاعت کا انتظام کرنا ہے۔“ یہ وہ کام تھا جس کے لیے ”پورے انہماک کے ساتھ اپنی ساری اجتماعی طاقت“ صرف کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں مجھے پانچ سال کی مدت سے کوئی بحث نہیں ہے۔ اس قسم کے اندازے عموماً غلط ہوتے ہیں۔ مگر ایسی حالت میں جب کہ ان میں سے کوئی ایک کام بھی ابھی تک نہ ہو سکا جماعت کے لیے لازم تھا کہ اس کو انجام دینے میں پوری قوت سے لگی رہتی۔ مگر ” پہاڑ کھود کر جوئے شیر لانے“ کی طاقت اس میں باقی نہیں رہی تھی۔ دوسری طرف مسلمانوں کے اندر کسی جماعت کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کا موقع پیدا ہو گیا تھا کہ کوئی ان کے ذوق کے مطابق نعرے لگائے تو فوراً اس پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ تقسیم ہند کے مسلم لیگ کے خاتمہ سے مسلم قیادت کی جو جگہ خالی ہوئی تھی اس پر جس طرح جمعیۃ علما قبضہ کرنا چاہتی تھی، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ مولانا ابو اللیث صاحب نے لکھا تھا: ”یہ لوگ میدان خالی پا کر سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔“ آج یہی الفاظ جماعت اسلامی پر لوٹ آئے ہیں۔ جو جمعیۃ علما کی ناکامی کے بعد مسلم قیادت کا میدان حاصل کرنے کے لیے سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔ 2۔ ایک اور وجہ عام مسلم سیاست سے متاثر ہونا ہے۔ جماعت عرصہ دراز سے مسلمانوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader