تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 342
By Maulana Wahiduddin Khan
کی اس تنقید کا ہدف بن رہی تھی کہ وہ ان کا کوئی کام نہیں کرتی، وہ ان کے عملی مسائل کے حل میں کوئی حصہ نہیں لیتی، اور اسلامی نظام قائم کرنے کے ایک خیالی آئیڈیل کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ یہ تنقید اب محض تنقید میں نہیں رہ گئی تھی۔ بلکہ اس کی وجہ سے عام مسلمانوں کے اندر جماعت سے دل چسپی بہت کم ہو گئی تھی۔ اس صورت حال نے دھیرے دھیرے اثر ڈالا اور اب نوبت یہاں تک پہنچی کہ جماعت اسی راہ پر مڑگئی جس کے متعلق اپنے آغاز میں اس نے شعوری طور پر فیصلہ کیا تھا کہ ادھر اس کو نہیں جانا ہے۔ نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت اوپر ”نتائج“ کے عنوان کے تحت جو کچھ میں نے لکھا ہے، وہ خود زیر بحث تعبیر کے حامیوں کے نزدیک ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ مگر ان میں ایسے افراد بہت کم ملیں گے جو یہ تسلیم کر لیں کہ یہ نتائج کسی نظریاتی خامی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ دراصل انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ نظریاتی سطح پر اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ البتہ عملی اعتبار سے بہت جلد اپنی کوتاہیوں کا اقرار کر لیتا ہے۔ کیوں کہ یہاں یہ اصول اس کو تسکین دینے کے لیے موجود رہتا ہے کہ ــ ”انسان بہر حال انسان ہے وہ غلطیوں سے پاک نہیں ہو سکتا۔“ یہ بات اگر چہ بذات خود صحیح ہے۔ مگر اس موقع پر اس کا استعمال صحیح نہیں۔ اس مخصوص بحث کے ضمن میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ یہ نتائج اگر واقعہ ہیں تو وہ صریح طور پر اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں نظریاتی خامی پائی جا رہی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ کسی نظریے پر ایمان رکھنے والوں کے اندر اس نظریے کے عملی تقاضوں کا پایا جانا ضروری نہیں۔ مگر یہ بات تحریک کے مومنین اولیں کے بارے میں نہیں ہے۔ بلکہ ان لوگوں سے متعلق ہے جو بعد کو تحریک میں شامل ہو جاتے ہیں۔ تحریک اپنی ابتدا میں خالص نظریاتی ہئیت کا نام ہوتی ہے اس وقت صرف وہی لوگ اس کی طرف بڑھتے ہیں جو اس کے مخصوص افکار سے متاثر ہوں جن کے ذہن کو تحریک اس حد تک بدل دے کہ وہ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader