Urdu book · تعبیر کی غلطی

نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت

Urdu book, p. 343

By Maulana Wahiduddin Khan

خیالات کے مقابلے میں اپنے خیالات کو غلط سمجھنے لگیں۔ اور بالقصد ایک زندگی کو چھوڑ کر دوسری زندگی اختیار کریں۔ اس کے بعد تحریک اگر غالب اور حکمراں حیثیت حاصل کرلے تو اس وقت اس کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اب نظریاتی اپیل کے علاوہ سیاسی دباؤ، معاشی مفاد اور عوامی رجحان بھی اس کے حق میں ہو جاتے ہیں۔ اس وقت بہت سے لوگ ان دوسرے اسباب کے تحت اس کی اطاعت قبول کر لیتے ہیں، وہ کسی ذہنی تبدیلی کے نتیجے میں نہیں بدلتے، بلکہ محض وقتی مصالح کے تحت اپنے نام اور ظاہری رویے میں دوسروں سے مطابقت پیدا کر لیتے ہیں۔ ان میں سے پہلی قسم کے جو لوگ ہیں، اگر ان کے اندر کوئی خرابی پیدا ہو تو اس کا سبب اصل نظریے میں ڈھونڈنا چاہیے ۔ کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو براہ راست تحریک کے نظریات نے کھینچا تھا۔ وہ اپنی ابتداہی سے تحریک کے نظریاتی مظاہر کی حیثیت سے وجود میں آئے تھے۔ وہ تحریک کی چلتی پھرتی تعبیر تھے ۔ وہ اپنی سابقہ زندگی کو لیے ہوئے تحریک میں نہیں گھسے تھے۔ بلکہ اس کو چھوڑ کر آئے تھے اور اپنے آپ کو اس طرح تحریک کے حوالے کیا تھا کہ وہ جیسا چاہتی ہے ویسا انھیں بنائے۔ اس لیے یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ ان کی اچھائی اور برائی کو تحریک کی طرف منسوب کیا جائے۔ البتہ دوسری قسم کے لوگوں کی خامیوں کا ذمے دار نظریہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس نئے معبود کو مرجع پرستش بنایا ہی نہیں تھا، جس کو تحریک پیش کر رہی تھی۔ بلکہ وہ اپنے بت خوداپنی آستینوں میں لیے ہوئے تھے، پھر ایسے لوگوں کا مطالعہ تحریک اور اس کے نظریات کی بنیاد پر کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ مگر جہاں تک اسلامی تحریک کا تعلق ہے، اس سلسلے میں ایک اور بات ہے جو اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اسلام لانا دراصل خدا سے تعلق جوڑنا ہے۔ یہ اپنے آپ کو رب العالمین کی سر پرستی میں دینا ہے۔ اس لیے جب کسی کا تعلق خدا سے قائم ہو تو اس کو وہ سب کچھ ملنا چاہیے جو ایسے لوگوں کو خدا کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ اگر یہ عطیات کسی مدعی ایمان کو حاصل نہ ہوں تو یہ اس بات کا یقینی ثبوت ہوگا کہ آدمی کا ایمان ابھی حقیقی معنوں میں وہ ایمان نہیں بنا جس کی تعلیم دینے کے لیے خدا کا رسول آیا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page