Urdu book · تعبیر کی غلطی

نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت

Urdu book, p. 344

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ کا وعدہ ہے کہ جولوگ ایمان لائیں گے وہ ان کا’’ ولی‘‘ بن جائے گا اور انھیں تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے آئے گا (البقرہ، 2:257) اس لیے مومن کو کبھی اس صورت حال سے دوچار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ محسوس کرے کہ اس کی راہ روشن نہیں ہے۔ اس کے پاس کوئی ایسا واضح پروگرام نہیں ہے جس کے لیے وہ متحرک ہو۔ خدا کا وعدہ ہے کہ جولوگ اس کی طرف بڑھیں گے وہ اپنے راستے انھیں دکھائے گا (العنكبوت، 29:69) اس لیے مومن کی زندگی میں کبھی ایسا مرحلہ نہیں آنا چاہیے کہ حالات کے اندر وہ کوئی راستہ نہ پارہا ہو، جس سے وہ اپنے رب کی طرف بڑھ سکے۔ خدا کا وعدہ ہے کہ جولوگ صحیح راہ اختیار کریں گے وہ ان کے ایمان اور خشوع کو بڑھائے گا۔ وہ ہدایت کی راہ میں انھیں ترقی دیتا چلا جائے گا۔ (انفال، 8:2؛ بنی اسرائیل، 17:109؛ محمد، 47:17) اس لیے ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے کہ مومن بے حسی اور تنزل میں مبتلا ہو۔ اس کا اسلام جمود کا شکار ہوکررہ جائے۔ خدا نے کہا ہے کہ وہ اپنے وفادار بندوں کی اس طرح قدر دانی کرتا ہے کہ ان کے اوپر ’’تقویٰ کا لباس ‘‘ اوڑھاتا ہے۔ انھیں اپنے ’’رزق خیر‘‘ سے کھلاتا پلاتا ہے جو دنیا کے مادی رزق سے کہیں بہتر ہے (الاعراف، 7:26؛ طٰہٰ، 20:131) اس لیے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آدمی ایمان لانے کے باوجود لباس خیر سے ننگا پڑا رہے، اور رزق رب سے اس کی روح کی پرورش نہ کی جائے۔ خدا کا وعدہ ہے کہ جولوگ ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کریں گے۔ وہ ان کے لیے ’’حیات طیبہ‘‘ کا انتظام فرمائے گا۔ (النحل، 16:97) وہ انھیں دینی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرے گا، اس لیے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایمان لانے والے انھیں مشاغل اور سرگرمیوں میں مصروف ہوکررہ جائیں، جن میں دوسرے اہل دنیا پڑے ہوئے ہیں۔ وہ عبادت اور شہادت کی مطلوب زندگی حاصل کرنے کی سعادت نہ پائیں۔ یہ نتائج اگر حقیقت کی دنیا میں موجود ہیں، اور یقیناً موجود ہیں، تو یہ اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ آدمی خدا کے منبع فیض سے اپنا تعلق قائم نہ کرسکا۔ وہ کہیں اور لٹکا ہوا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page