Urdu book · تعبیر کی غلطی

نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت

Urdu book, p. 345

By Maulana Wahiduddin Khan

شبہات یہاں بعض لوگوں کو یہ سوال پریشان کر سکتا ہے کہ جس تعبیر پر تم اعتراض کر رہے ہو، ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس سے متاثر ہو کر کتنے لوگوں میں زبردست انقلاب آگیا۔ پھر ہم کیسے مان لیں کہ یہ سب کچھ غلط تھا۔ میں کہوں گا کہ بے شک آپ کا خیال صحیح ہے۔ مگر آپ ماضی کے مشاہدے کو حال کا واقعہ فرض کرنے کی غلطی کر رہے ہیں۔ اگر آپ اپنے عقیدت کدے سے باہر آ کر اپنی تصوراتی شخصیتوں کو ان کے موجودہ حلیے میں دیکھ سکیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ جس چیز کو آپ ’’انقلاب‘‘ سمجھ رہے ہیں۔ وہ درحقیقت وقتی جوش تھا جو کب کا ختم ہو چکا ہے ۔ (الاما شاء اللہ) اصل میں انسان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی آئیڈیل (آدرش) چاہتا ہے۔ غلط فلسفوں یا مذہب کی غلط تعبیروں کی طرف بہت سے لوگوں کا دوڑ پڑنا اسی اندرونی طلب کا نتیجہ ہے۔ مگر آئیڈیل کی تلاش دراصل اپنے خالق کی تلاش کا فطری جذبہ ہے۔ اس لیے اس جذبہ کی حقیقی تسکین صرف اسی وقت ہو سکتی ہے، جب آدمی کی تلاش اسے صحیح معنوں میں خدا تک پہنچادے، جب اس کی روح کسی درمیانی حجاب کے بغیر اپنے آقا سے جاملی ہو۔ ایسا آدمی ارتقا کے لامحدود امکانات پالیدا ہے۔ اس کے لیے تنزل کا کوئی سوال نہیں۔ لیکن اگر وہ کسی محدود یا کمتر حقیقت کو کلی حقیقت سمجھ کر اس کی طرف بڑھا تھا تو زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ فطرت اس کے ساتھ اپنے عدم مطابقت کو ظاہر کر دے گی۔ مصنوعی آدرش حقیقی آدرش کی جگہ نہ لے سکے گا۔ اور پھر اس کے بالکل قدرتی نتیجے کے طور پر ایسا ہوگا کہ زندگی اپنے سابق معمول کی طرف لوٹنا شروع ہو جائے گی۔ اس کی وہ ہماہمی ختم ہونے لگے گی جو ابتدائی جوش کے طور پر اس کے اندر پیدا ہوگئی تھی۔ یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جب وہ بالکل سرد ہو کر رہ جائے گا اور اپنے پسند کیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page