نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 346
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے فکر کے کنارے اس طرح بے روح حالت میں پڑا رہے گا جیسے رات بھر بیتاب رہنے والے پتنگوں کو آپ صبح کے وقت دیکھتے ہیں کہ وہ بجھی ہوئی روشنی کے گرد بے حس و حرکت پڑے ہیں۔ یہ انجام ایسی کسی تحریک کے تمام اصاغر و اکابر کے لیے مقدر ہے۔ البتہ اگر ان میں سے کسی کے اندر پیدائشی طور پر کچھ عوام فریب خصوصیات موجود ہوں، مثلاً ذہانت، جسمانی وجاہت، گفتگو کا ملکہ، تحریر یا تقریر کی استعداد تو بہت سے لوگوں کے لیے اس کی یہ ظاہری خصوصیات اس کی مردہ شخصیت کا پردہ بنی رہیں گی۔ اس کے معتقدین اسے زندہ سمجھتے رہیں گے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے تابع جن ان کی ظاہری ہیئت کی وجہ سے بدستور انھیں زندہ سمجھتے رہے۔ اسی طرح بعض لوگ طبعی طور پر بعض صفات محمودہ کے مالک ہوتے ہیں۔ مثلاً خوش خلقی اور ترحم وغیرہ۔ ایسے لوگ ہر تحریک میں پائے جاتے ہیں۔ مگر یہ ذاتی نوعیت کی صفات ہیں، جن کو نہ تو تحریک سے منسوب کرنا صحیح ہے اور نہ وہ اپنے اندر کوئی نظریاتی قدر رکھتے ہیں۔ اسی طرح بعض چیزیں جماعتی کردار یا تحریکي اخلاقیات کے طور پر پیدا ہوتی ہیں، آدمی کی ذاتی زندگی خلق کی خدمت سے خالی ہو جاتی ہے۔ مگر "شعبہ خدمت خلق" کے تحت اجتماعی پروگراموں میں وہ دوسروں کے ساتھ متحرک نظر آتا ہے۔ 2۔ بعض مرتبہ دین کے نام پر اٹھنے والی کسی تحریک کی غلطیوں کو سمجھنا لوگوں کے لیے اس لیے بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ اس سے دین کو کچھ فائدے ہورہے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ جس تحریک سے دین کو فائدہ پہنچے اس میں کوئی غلطی کس طرح ہوسکتی ہے۔ اس کا مفید ہونا خود ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ صحیح ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں میں کوئی لازمی رشتہ نہیں ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ کوئی کوشش دین کے لیے کسی پہلو سے مفید ہو، مگر اس کوشش کی بنیاد درست نہ ہو۔ یورپ میں بعض عیسائیوں نے خدا کے اثبات پر نہایت اونچے درجے کے سائنسی دلائل فراہم کیے ہیں، جواب تک کسی مسلمان عالم سے ممکن نہ ہو سکا۔ مگر اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader