نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 347
By Maulana Wahiduddin Khan
کے باوجود کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ یہی وہ چیز ہے جو ایک انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے یا کہ عیسائی خدا کے دین کے صحیح ترجمان ہیں۔ کسی تحریک میں مفید اور غیر مفید یا صحیح اور غلط دونوں پہلوؤں کا ہونا ایک عام مشاہدے کی چیز ہے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی پیشین گوئی فرمائی ہے۔ حضرت حذیفہ کی طویل حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ. قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ: قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 7084؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1847)۔ یعنی، میں نے پوچھا اے خدا کے رسول ہم لوگ جاہلیت اور شر میں پڑے ہوئے تھے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ خیر عنایت فرمایا۔ تو کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہے۔ فرمایا ہاں۔ میں نے پھر پوچھا کیا اس شر کے بعد پھر خیر کا زمانہ آئے گا۔ فرمایا ہاں۔ مگر وہ خالص نہیں ہو گا بلکہ اس میں کھوٹ ہوگا۔ میں نے پوچھا اس کا کھوٹ کیا ہے۔ فرمایا اس وقت ایسے لوگ ہوں گے جو میرے طریقہ کے خلاف طریقہ اختیار کریں گے۔ تم ان میں اچھی بات بھی پاؤ گے اور غلط بات بھی۔ اصل یہ ہے کہ دین کے نام پر ہونے والی کوششوں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک شہادت دین اور دوسرے تائید دین۔ شہادت دین کی تحریک وہ ہے جو خالص دین کی تبلیغ کے لیے اٹھے اور اس کی صحیح ترین شکل میں کام کرے۔ جس میں اس قسم کا کوئی خلا نہ ہو جس کی طرف ہم نے اوپر اشارے کیے ہیں۔ یہی مطلوب ہے اور آخرت میں وہی لوگ دراصل شاہد کی حیثیت سے اٹھائے جائیں گے جنہوں نے اس انداز سے کام کیا ہو۔ تائید دین کی تحریک وہ ہے جس سے بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر دین کو تقویت پہنچے۔ مثلاً باطل افکار کی تردید، دشمن کے مقابلے میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader