نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 348
By Maulana Wahiduddin Khan
مدافعنت، اس کے کسی جز ء کو باقی رکھنے کی جد و جہد، وغیرہ۔ اس دوسرے کام کے لیے نہ صرف صحت فکر بلکہ صحت عمل بھی ضروری نہیں ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: إِنَّ اللهَ لَيُؤْيِدُ هذا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3967 ) ۔ یعنی، اللہ یقیناً فاجر آدمی کے ذریعہ بھی اس دین کی تائید (مدد) کرتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ میں زیر بحث فکر کے حاملین کے کام کی قدر کرتا ہوں، ان لوگوں نے اسلام کے دفاعی محاذ پر مفید خدمات انجام دی ہیں، میں یہ بھی کہنے کے لیے تیار ہوں کہ موجودہ زمانے کے بہت سے ” اسلامی نمائندوں “ کے مقابلے میں وہ کہیں زیادہ اسلام کے مفاد کا احساس رکھتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ میرا شدید احساس یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کا جو تصور دینے کی کوشش کی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے بے شک بیرونی حملوں کے مقابلے میں اسلام کی مدافعت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر اس سے بڑھ کر ان کے کام کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کی تشریح کی ہے، انہوں نے اسلام کی ایک تعبیر پیش کی ہے۔ اور اسی دوسرے معاملے میں وہ غلطی کر گئے ۔ ان کی تعبیر میں حقیقتِ دین شدت سے مجروح ہوگئی۔ اور یہی وہ پہلو ہے جس نے مجھے ان کے بارے میں زبان کھولنے پر مجبور کیا۔ اگر ان کا کام صرف مدافعت تک محدود ہوتا، اور دین کی ایک مخصوص تعبیر پیش کرنے کی کوشش انہوں نے نہ کی ہوتی۔ تو میں ہرگز یہ حماقت نہ کرتا کہ ان کے خلاف قلم اٹھاؤں۔ 3۔ ” آپ کے تجزیے میں صداقت تو معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ مولانا مودودی نے دین کی تشریح میں جو کچھ لکھا ہے۔ وہ سب غلط ہے “۔ ایک صاحب نے میری تحریر پر پڑھنے کے بعد کہا۔ یہ شبہ نہایت آسانی کے ساتھ رفع ہوسکتا ہے اگر ہم زیر بحث لٹریچر کی نوعیت کو سمجھ لیں۔ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ۔ مولانا مودودی نے اجزائے دین میں سے کسی جز ء پر کام نہیں کیا ہے۔ بلکہ انہوں نے پورے دین کی مجموعی تشریح کی ہے۔ انہوں نے دین کے بارے میں وہ کلی تصور قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے تحت پورے دین کو اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader