Urdu book · تعبیر کی غلطی

نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت

Urdu book, p. 349

By Maulana Wahiduddin Khan

سارے اجزاء سمیت سمجھا جاسکے۔ یہ ایک بہت بڑا کام ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ نہایت نازک کام بھی ہے۔ کیوں کہ اس کی صحت و غلطی کا تعلق پورے دین کے بارے میں آدمی کے نقطۂ نظر سے ہے۔ اگر وہ صحیح ہو تو پورے دین کے بارے میں آدمی کا نقطۂ نظر صحیح ہوگا۔ اور اگر وہ غلط ہو تو پورے دین کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر غلط ہو جائے گا۔ شاہ ولی اللہ اگر وضو کی حکمت بتانے میں غلطی کر جائیں تو اس سے ان کی کتاب کے بقیہ حصوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لیکن مولانا مودودی نے جو کام اپنے ذمے لیا ہے، اس کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے پورے دین کی حکمت بتانے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے اگر وہ غلطی کریں تو اس کی وجہ سے ان کا پورا فلسفہ متاثر ہو جائے گا۔ اور سارا لٹریچر قابل اعتراض شکل اختیار کرلے گا۔ اجزائے دین کی حکمت بیان کرنے والوں کی غلطی مقامی نوعیت کی ہوتی ہے۔ وہ صرف اس مخصوص مسئلے سے متعلق ہوتی ہے، جس کے بارے میں غلطی کی گئی ہے۔ جب کہ کل دین کی حکمت بتانے والے کی غلطی اس کی پوری تقریر پر پھیل جاتی ہے، وہ اس کے پورے فکر کو غلط کرکے رکھ دیتی ہے۔ ایک تعمیر سامنے کھڑی ہو اور اس کے ایک حصے کے بارے میں آپ کہیں کہ ’’یہ کھڑکی ہے، تو یہ اس کے ایک جزء کی تشریح ہے۔ اگر آپ کھڑکی کو ’’دروازہ‘‘ کہہ دیں تو اگرچہ یہ غلطی ہوگی، مگر یہ غلطی صرف ایک خاص جزء تک محدود رہے گی۔ اس سے تعمیر کے بقیہ حصوں کے بارے میں آپ کے نقطۂ نظر پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ تعمیر کے دیگر حصوں کے بارے میں آپ نہایت صحیح رائے رکھتے ہوں۔ مگر ایک کھڑکی کی نوعیت سمجھنے میں آپ سے غلطی ہو گئی۔ اس کے برعکس، جب سامنے کھڑی ہوئی تعمیر کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ یہ ’’مکان‘‘ ہے تو آپ کا یہ بیان پوری عمارت کے بارے میں آپ کی تشریح کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ لفظ بتاتا ہے کہ وہ مرکزی تصور کیا ہے، جس کے تحت آپ اس کے تمام اجزاء کو ایک مجموعہ کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر آپ اس کے بارے میں کہیں کہ یہ ’’کارخانہ ہے‘‘ تو یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page