نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 350
By Maulana Wahiduddin Khan
پورے مجموعہ کی دوسری تشریح ہوگی۔ اب ایک اور ہی تصور کے تحت آپ اس کے مختلف اجزاء کو اپنے ذہن میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح عمارت کے صرف کسی ایک جزء کے بارے میں آپ کا تصور نہیں بدلے گا۔ بلکہ پوری تعمیر کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر کچھ سے کچھ ہو جائے گا۔ اب ظاہر ہے کہ ایک جزئی غلطی پر جس طرح محدود تنقید کی جاتی ہے، اسی کی توقع ایک ایسی غلطی کے بارے میں نہیں کرنی چاہیے جس نے پورے مجموعہ کے بارے میں آدمی کا تصور بدل دیا ہو۔ 4۔ "اس لمبی بحث کے باوجود ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ دونوں تعبیروں میں فرق کیا ہے" ۔ بعض لوگوں کی زبانوں سے آپ اس قسم کے الفاظ بھی سنیں گے۔ میں اس شبہ کو بالکل بے بنیاد نہیں سمجھتا۔ مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو چیزیں باہم مشابہ ہونے کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ ایک بچہ اپنی چار پہیوں کی گاڑی کو الٹ دے اور رسی باندھ کر اس کی پشت کی جانب سے گھسیٹنا شروع کر دے تو سرسری طور پر دیکھنے والے کے لیے گاڑی کی شکل میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوگی۔ مگر یہ یقینی ہے کہ بچے کی اس حرکت سے گاڑی کی معنویت بالکل برباد ہو جائے گی۔ جو لوگ یہ شبہ ظاہر کرتے ہیں، وہ دونوں تعبیروں کا فرق ان کی ظاہری صورتوں میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا فرق انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ کیوں کہ دونوں میں جو فرق ہے، وہ حقیقتاً ان کی ظاہری صورت میں نہیں بلکہ ان کی معنوی ہیئت میں ہے۔ زیر بحث تعبیر کی غلطی یہ نہیں ہے کہ اس نے دین کی شکلوں کو بالقصد بدل دیا ہے۔ بلکہ اس نے ان شکلوں کی نوعیت سمجھنے میں غلطی کی ہے۔ گویا عمل نہیں بدلا بلکہ عمل کا فلسفہ بدل گیا۔ بقیہ خرابیاں جو اس کے اندر ہمیں نظر آتی ہیں، وہ بالقصد نہیں لائی گئیں بلکہ اسی غلطی کے نتیجے کے طور پر ظاہر ہوئی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ اور ایک اس کی ہیئت۔ اگر آپ کسی چیز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader