نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 351
By Maulana Wahiduddin Khan
کی اصل حقیقت کو پالیں تو اس سے متعلق تمام ظاہری اجزاء کو بھی ان کی صحیح ترین شکل میں سمجھ سکتے ہیں۔ اور اگر آپ حقیقت کو سمجھنے میں غلطی کر جائیں تو ہر چیز آپ کے ذہن میں مختلف صورت اختیار کرلے گی۔ مثلاً ہاتھی کا ایک مجسمہ کہیں کھڑا ہو تو اس کو ہاتھی سمجھنے کی صورت میں اس کا پورا ڈھانچہ آپ کے ذہن میں ہاتھی کے تصور کے ساتھ جڑ جائے گا۔ لیکن اگر اس کھڑے ہوئے ڈھانچے کو آپ پتھر کا تراشا ہوا مکان سمجھ لیں تو اس کے متعلق آپ کی تشریح بالکل بدل جائے گی۔ اب آپ اس کے پیروں کو ستون قرار دیں گے، اس کی پیٹھ آپ کو مکان کی چھت نظر آئے گی، اور سونڈ اور دم کے بارے میں آپ کہیں گے کہ یہ چھت سے لٹکا ہوا پر نالہ ہے، اس کے دونوں کانوں کو آپ روشن دان سمجھنے لگیں گے۔ اس طرح ہاتھی کا پورا ڈھانچہ آپ کے ذہن میں مکان کے ڈھانچے کی حیثیت حاصل کرلے گا۔ اور جب ایسا ہوگا تو اس سے آپ کے تعلق کی نوعیت بھی ٹھیک اسی کے مطابق بننے لگے گی۔ اب ہاتھی کی شکل آپ کو سواری کا تصور نہیں دے گی بلکہ وہ آپ کے لیے ایک قیام گاہ ہوگی۔ جس پر سفر نہیں کیا جاسکتا بلکہ جس کے نیچے ٹھہر کر آرام کیا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی مسئلے کو آپ جس رخ سے دیکھتے ہیں اسی کے مطابق اس سے آپ کے سارے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ کمیونزم بھی اجتماعی معیشت کا حامی ہے۔ اور سرودیہ تحریک بھی۔ مگر ایک اپنے مقصد کی تشریح مادی اصطلاحوں میں کرتا ہے۔ اور دوسرا روحانی اصطلاحوں میں۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک فکر سے متاثر ہونے والوں کا ذہن تمام تر سیاست پر مرکوز ہو جاتا ہے اور دوسری فکر سے متاثر ہونے والوں کا ذہن صرف انسان کی اخلاقی حس سے اپیل کرنے پر۔ اس تعبیر کی غلطی یہ ہے کہ اس نے بعض اسباب سے، جن کی طرف ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں، اسلام کی تصویر کو صحیح شکل میں نہیں سمجھا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری تصویر کی نوعیت اس کے ذہن میں بدل گئی۔ اور وہی ڈھانچہ جو ایک چیز کا ہاتھی ہونا بتا رہا تھا، وہی زاویہ نگاہ کے فرق سے ایک مکان کی صورت میں نظر آنے لگا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے زندگی کے تمام مظاہر ایک خدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader