نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 352
By Maulana Wahiduddin Khan
پرست کی نظر میں خالق کی تخلیق دکھائی دیتے ہیں۔ مگر ڈارون کے مخصوص فکری سانچے میں وہ اس نظریے کی تصدیق بن گئے کہ نباتات اور حیوانات کا وجود کسی عمل تخلیق کی پیداوار نہیں بلکہ صرف عمل ارتقاء کی پیداوار ہے۔ یہاں میں ایک مثال دوں گا۔ اس تعبیر نے اسلامی تصورات کی جو انقلابی تشریح کی ہے، اس کی روشنی میں جب اس نے دیکھا تو اس کو نظر آیا کہ ”اسلام کا آخری مقصد“ ”مدنیت صالحہ اور حکومت الہیہ کو وجود میں لانا“۔ مقصد کی اس تشریح کا بالکل لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ نماز، روزہ وغیرہ تربیتی ضمیمے بن گئے جن سے اس مخصوص مہم کے لیے افراد“ پھیل بنا کر تیار کیے جاتے ہیں“ (اسلامی عبادات اور خطبات)۔ اور عقائد اس ”صالح تمدنی و سیاسی نظام“ کی ” فکری بنیادیں “ قرار پائے۔ اس طرح وہ چیزیں جو اسلام میں براہ راست مطلوب تھیں وہ اس تعبیر کے خانے میں بالواسطہ حیثیت کے مقام پر چلی گئیں ۔ جب اسلامی جدوجہد کا اصل مقصد دنیا میں ایک مخصوص نظام بنانا قرار دیا جائے تو اخروی حقیقتیں آپ کی زندگی میں یہ حیثیت نہیں کر سکتیں کہ وہ بذات خود مقصود ہوں ۔ اس طرح کے نصب العین کے ساتھ وہ صرف تربیتی ضمیمے ہی کی حیثیت سے جگہ پا سکتی ہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ بعد کی پالیسی میں اس قسم کے الفاظ لکھے ہوئے ملتے ہیں ”ہمیں اپنا دعوتی کام اس ڈھنگ پر انجام دینا ہوگا کہ دعوت اپنے حقیقی محرک کے ساتھ صحیح شکل میں مخاطب کے ذہن نشیں ہو جائے ۔ یعنی نجات اخروی کو زندگی کے اصل مسئلے کی حیثیت سے پیش کیا جائے ۔ اور نظام باطل کی بنیادوں پر تنقید کرتے ہوئے دعوت کے بنیادی نکات، توحید، آخرت اور رسالت کو دل و دماغ میں راسخ کیا جائے “ ( زندگی ، اگست 1960 ) ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس جدید شرح نے سابق متن میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے ۔ اس کا کارنامہ صرف یہ ہے کہ اصل بات کو باقی رکھتے ہوئے اس میں اس نے ” محرک “ کا لفظ بڑھا دیا ہے۔ اس کے نزدیک بھی اسلامی تحریک کا اصل منشا یہی ہے کہ نجات دنیوی کا ایک نظام کھڑا کیا جائے ۔ البتہ نجات دنیوی کی اس جدوجہد کا محرک یہ ہونا چاہیے کہ اس سے نجات اخروی حاصل ہوگی !

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader