نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 353
By Maulana Wahiduddin Khan
چنانچہ اس اضافے کے باوجود سار تقریری و تحریری کاروبارا اسی طرح جاری ہے جیسے وہ پہلے تھا۔ حتیٰ کہ عین اس پالیسی کی تشکیل کے بعد (نومبر 1960ء میں) دارالسلطنت میں ملکی پیمانے پر ایک عظیم اجتماع منعقد کیا جاتا ہے۔ مگر اس سلسلے میں جو تعارفی اعلانات شائع ہوتے ہیں۔ اور وہاں جو تقریریں کی جاتی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک سے بھی اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ یہ کسی ایسی تحریک کا اجتماع ہے، جو نجات اخروی کو اصل مسئلے کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے لانا چاہتی ہے۔ بلکہ ساری کارروائیوں میں اسلام کا تعارف اس حیثیت سے کرایا جاتا ہے کہ وہ بہتر شہری، بہتر سماج اور بہتر ریاست کو وجود میں لانے کا ذریعہ ہے۔ اس مثال میں آپ صاف طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ دین کے نقشہ میں نماز، روزہ اور جنت، دوزخ سب کچھ موجود ہیں۔ مگر فکر کے فرق کی وجہ سے یہ چیزیں اپنے اصل مقام پر باقی نہیں رہیں خدا کا دین خود اپنے ہی ڈھانچے میں اجنبی ہو کر رہ گیا۔ 5۔ بعض طبیعتیں ایسی ہوں گی جو میری معروضات کو رد تو نہیں کریں گی مگر اس میں انھیں کافی مباحثہ معلوم ہوگا۔ ان کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ انھیں کی تصویر ہے جو اس قدر بھیانک شکل میں ان کے سامنے نظر آ رہی ہے۔ اگر ایسا ہو تو میں کہوں گا کہ آپ کی مثال اس شخص کی سی ہے جو تو دہ برف (Iceberg) کی سائنس سے بے خبر ہو۔ اس کے سامنے اگر سمندر کی گہرائی سے ایک ہزار فٹ اونچا برفانی تو دہ نکال کر رکھ دیا جائے تو اس کو یقین نہ آئے گا کہ یہ برف کا پہاڑ وہی چیز ہے جو اس کی آنکھوں نے سطح آب پر صرف ایک سوفٹ اوپر ابھرا ہوا دیکھا تھا۔ اس شبہ کی خاص وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص اس تعبیر کا لٹریچر اور اس کے حاملین کی زندگیوں کو دیکھتا ہے، تو اس کو نظر آتا ہے کہ ان کے یہاں بظاہر وہ سب کچھ موجود ہے، جو قرآن وحدیث میں بتایا گیا ہے۔ پھر اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس تعبیر میں وہ کیا نقص ہے، جس کی وجہ سے اس کے اوپر اتنی شدید تنقید کی گئی ہے۔ مگر یہ سب کچھ جو آپ اس تعبیر کے ڈھانچے میں دیکھ رہے ہیں، وہ سب کا سب اس کا حقیقی حصہ نہیں ہے۔ اس کے بیشتر اجزاء وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader