نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 354
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں، جو کسی شعور کی بنا پر اختیار نہیں کیے گئے ہیں۔ بلکہ محض روایتی اثرات کے تحت بے روح طور پر اس کے مجموعے میں شامل ہو گئے ہیں۔ اصل میں انسان جو کچھ کرتا ہے، وہ سب وہی نہیں ہوتا جو جانے بوچھے تصور کے تحت عمل میں آتا ہو۔ بلکہ اس کا بڑا حصہ وہ ہے جو لاشعور میں دبے ہوئے محرکات کی بنا پر صادر ہوتا رہتا ہے۔ ہمارے شعوری علم میں چونکہ ہمارا اپنا کوئی مخصوص نظریہ ہوتا ہے، اس لیے ہم اپنی پوری زندگی کو اسی کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، وہ سب اسی نظریے کی بنا پر کر رہے ہیں۔ حالانکہ اگر ہم اپنا نفسیاتی تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ہمارے اعمال و عقائد کا ایک بڑا حصہ وہ ہے، جس کا ہمارے شعور اور فیصلے سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ محض ان اثرات کے تحت ہماری زندگی میں شامل ہو گئے ہیں، جو لاشعور میں چھپے ہوئے ہیں۔ لاشعور آپ کے وجود کا وہ بڑا حصہ ہے جو ذہنی سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس کے بغیر محض شعوری تصورات کی روشنی میں اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کرنا ویسی ہی ایک غلطی ہے، جیسے کوئی شخص سمندر میں تیرتے ہوئے تودہ برف (Iceberg) کی جسامت کا اندازہ محض ظاہری مشاہدہ کی بنا پر کرنے لگے۔ ایک مثال سے اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔ سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے درمیان یورپ میں جو بڑے بڑے مفکر اور سائنس داں پیدا ہوئے اگر آپ ان کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کی اکثریت کائنات کا ایک خدا مانتی ہے۔ ڈیکارٹ سے لے کر نیوٹن تک سب خدا کا وجود تسلیم کرتے تھے۔ حتی کہ ڈارون کی مشہور کتاب اصل الانواع (Origin of Species) جو انیسویں صدی کے وسط میں شائع ہوئی، اور جو مذہبی حلقوں میں سب سے زیادہ بحث و تنقید کا موضوع رہی ہے اس میں بھی کئی بار خالق (Creator) کا ذکر ملتا ہے۔ اس نے اپنی یہ کتاب ان الفاظ پر ختم کی ہے ”زندگی کے اس ارتقائی نقطۂ نظر میں کتنی عظمت ہے کہ خالق نے ایک یا چند اشیاء میں ابتداءً روح پھونکی اور اس کے بعد مختلف فطری طاقتوں کے عمل سے بے شمار انواع حیات وجود میں آ گئیں“۔ (The Origin of Species, pp. 528-529)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader