Urdu book · تعبیر کی غلطی

نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت

Urdu book, p. 355

By Maulana Wahiduddin Khan

لیکن انھیں علمائے سائنس کے نظریات کی بنیاد پر بعد کو کونسل اٹھی وہ خدا کی منکر یا کم از کم متشکک (agnostic) تھی۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سائنسی نظریات نے بعد کو جو ذہن بنایا وہی ان نظریات کی اصل روح تھی۔ سائنسدانوں نے جس طرز پر کائنات کا مطالعہ شروع کیا، اس کا مطلب یہی تھا کہ خدا کو الگ کر کے کائنات کی توجیہ کی جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ سائنسدان اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے بے خدا مفکر تھے۔ اگر ہم ان کے اقوال یا ان کی تحریروں میں خدا کا اقرار پاتے ہیں تو یہ کسی واضح شعور کی بنا پر نہیں تھا۔ جس مذہبی ماحول میں انہوں نے پرورش پائی تھی، عیسائیت کی جس طویل تاریخ کے درمیان وہ پیدا ہوئے تھے، اس کا فطری تقاضا تھا کہ اس طرح کے ضمیمے ان کے ساتھ لگے ہوئے ہوں ۔ ان کا حقیقی شعور تو خدا کے تصور کو خارج کر کے اسرار کائنات کی کھوج کرتا تھا، مگر لاشعور میں جو احساسات مرتسم ہو گئے تھے، اس کی بنا پر وہ زبان سے اس کا انکار بھی نہ کر سکتے تھے۔ خدا کا تصور ان کے اثاث البيت کا وہ جزء تھا جو گھر میں موجود تو ہوتا ہے مگر اکثر اوقات صاحب خانہ کو اس کی اطلاع بھی نہیں ہوتی ۔ خدا ان کی زندگی کا حقیقی جزء نہیں تھا۔ بلکہ وہ محض روایتی جزء تھا۔ بعد کی نسلوں میں جب یہ تاریخی اثرات مدھم پڑ گئے تو کھلم کھلا انکار کرنے والے پیدا ہونے لگے، اور وہی علما جو خدا کو مانتے تھے، انھیں کی تحقیقات اس بات کے ثبوت میں پیش کی جانے لگیں کہ اس کائنات کا کوئی خدا نہیں ہے، وہ محض کچھ فطری قوانین کے تحت اپنے آپ چل رہی ہے۔ اب اگر کوئی شخص ان قدیم سائنسدانوں کی تحریروں سے اس قسم کے چند جملے نقل کر کے کہے کہ ان کا طرز فکر خدا پرستی کے خلاف نہیں ہے تو یہ بالکل سادہ لوحی کی بات ہوگی۔ ٹھیک یہی صورت مسلمانوں کے ساتھ بھی پیش آئے گی۔ اسلام چونکہ اپنی ایک مستند کتاب رکھتا ہے اور اس کی ہزار برس سے زیادہ لمبی تاریخ ہے، اس لیے جب بھی مسلمانوں میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page